شمالی غزہ میں فلسطینیوں کی واپسی حماس کی فتح اور اسرائیل کی مکمل شکست کے مترادف ہے: بین گویر

تہران (ارنا) صیہونی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کی کابینہ کے مستعفی ہونے والے جنگی جنون میں مبتلا شدت پسند وزیر نے پیر کے روز شمالی غزہ پٹی میں فلسطینی پناہ گزینوں کی واپسی کی تصاویر کو حماس تحریک کی فتح اور تل ابیب کی طرف سے مکمل ہتھیار ڈالنے سے تعبیر کیا ہے۔

صیہونی حکومت کے داخلی سلامتی کے مستعفی وزیر ایتمار بن گویر نے شمالی غز کی پٹی میں فلسطینی پناہ گزینوں کی واپسی کے آغاز پر ردعمل میں کہا کہ شمالی غزہ  پٹی میں فلسطینی پناہ گزینوں کی واپسی ایک ایسی تصویر ہے جس کا ایک رخ حماس کی فتح اور دوسرا رخ توھین آمیز غیر قانونی معاہدہ (غزہ جنگ بندی معاہدہ)  ہے۔

اس مستعفی وزیر نے تاکید کرتے ہوئے کہا کہ ایسا نہیں لگتا کہ یہ مسئلہ (فلسطینی پناہ گزینوں کی شمالی غزہ پٹی میں واپسی) (صیہونی حکومت کے لیے) مطلق فتح ہے، بلکہ (اس حکومت کے لیے) مکمل ہتھیار ڈالنے کے مترادف ہے۔

بین گویر نے مزید کہا کہ ہمارے فوجیوں نے غزہ  پٹی میں یہ منظر دیکھنے کے لیے لڑائی کی اور جانیں دیں؟ ہمیں جنگ میں واپس آنا چاہیے۔

ہزاروں فلسطینی پناہ گزین پیر کی صبح سے ہی ساحلی خیابان "الراشد"  کے راستے غزہ شہر اور شمالی غزہ پٹی کی طرف لوٹ رہے ہیں۔

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .