صدر ایران: صیہونی حکومت کی مجرمانہ کارروائیوں کا سبب مسلمانوں کا ایک دوسرے سے بے پروائی برتنا ہے

تہران (ارنا) صدر ایران نے کہا ہے کہ اگر آج صیہونی حکومت خطے میں جرائم اور جارحیت کی جرات کررہی ہے تو اس کی وجہ مسلمانوں کا ایک دوسرے سے لاتعلق ہونا ہے۔

ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے بدھ کی شام ملائیشیا کے وزیر خارجہ داتو سری اوتاما حاجی بن محمد حاجی حسن کے ساتھ ملاقات میں ایران اور ملائیشیا سمیت اسلامی ممالک کے درمیان ہم آہنگی کو موجودہ عالمی حالات کی اہم ضرورت قرار دیا اور کہا کہ ہمارا مقصد باہمی روابط، ہم آہنگی اور تعاون کا فروغ ہے۔ اگر آج صیہونی حکومت خطے میں جرائم اور جارحیت کی جرات کررہی ہے تو اس کی وجہ مسلمانوں کا ایک دوسرے سے لاتعلق ہونا ہے۔

صدر ایران نے عالم اسلام کے رہنماوں اور سیاست دانوں کے درمیان ہم آہنگی اور ہم بستگی کو اسلامی معاشروں سے اختلافات، غلط فہمیوں، غربت اور محرومیوں کے خاتمے کے لیے موثر قرار دیا اور کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران ملائشیا سمیت اسلامی ممالک کے ساتھ تمام شعبوں میں تعلقات کو وسعت دینے کا خواہاں ہے۔

صدر نے امید ظاہر کی کہ یہ ملاقاتیں دونوں ممالک کے درمیان مضبوط اور تعمیری تعلقات کے قیام اور دیگر اسلامی ممالک کے ساتھ اتحاد کا باعث بنیں گی۔

ملائیشیا کے وزیر خارجہ داتو سری اوتاما حاجی نے صدر ایران سے ملاقات پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے ملائیشیا کے بادشاہ اور وزیر اعظم کی جانب سے نیک خواہشات کا پیغام پہنچایا۔

انہوں نے ایران اور ملائیشیا کے درمیان تعلقات کو افہام و تفہیم اور دوستانہ تعلقات پر مبنی قرار دیا اور ایران کے ساتھ سائنس و ٹیکنالوجی، تعلیم، خوراک اور زراعت کے  شعبوں میں تعاون پر زور دیا۔

ملائیشیا کے وزیر خارجہ نے کہا کہ ایران ایک قدیم تہذیب کا حامل تاریخی ملک ہے۔ انکا کہنا تھا کہ ایران عالمی سطح پر ممتاز سائنسدانوں، محققین اور فلاسفرز کی سرزمین ہے اور ملائیشیا دونوں ممالک کے مشترکہ مفادات کے مطابق ان سائنسی صلاحیتوں کو مشترکہ تعاون کی صورت میں اجاگر کرنے میں دلچسپی رکھتا ہے۔

داتو سری اوتاما حاجی نے مسئلہ فلسطین سمیت علاقائی اور بین الاقوامی مسائل پر ایران اور ملائیشیا کے مشترکہ موقف کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی طرح ہم بھی غزہ کے مظلوم عوام کے خلاف صیہونی حکومت کے جرائم اور نسل کشی کی مذمت کرتے ہیں اور فلسطینیوں کو اپنے وطن اور سرزمین چھوڑنے پر مجبور کرنے کے کسی بھی منصوبے یا اقدام کو مسترد کرتے ہیں۔

 ملائیشیا کے وزیر خارجہ نے ایرانی صدر کو ملائیشیا کے وزیر اعظم انور ابراہیم کی جانب سے اس ملک کے دورے کی باضابطہ دعوت کا پیغام بھی پہنچایا۔

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .