برطانیہ کا ایران اور عالمی ایٹمی ایجنسی کے درمیان مفاہمت کا خیر مقدم

لندن، ارنا-عالمی جوہری ادارے میں تعینات برطانیہ کے مندوب نے جوہری سرگرمیوں کا جائزہ لینے کے مسائل سے متعلق ایران اور آئی اے ای اے کے درمیان مفاہمت کو مثبت قدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ لندن کی حکومت جوہری ادارے کے فیصلوں کی بھر پور حمایت کرے گی۔

ان خیالات کا اظہار "دیوید ہال" نے بدھ کے روز ایک ٹوئٹر پیغام مں کیا اور کہا کہ ایران کیجانب سے آئی اے ای اے کی متعین کردہ مقامات تک رسائی کی فراہمی انتہائی اچھی خبر ہے جس سے جوہری ادارے کی سرگرمیوں کی درستگی ظاہر ہوتی ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ برطانیہ، ایران جوہری معاہدے کے کیس میں عالمی جوہری ادارے کے سربراہ رافائل گروسی اور ان کی ٹیم کی مکمل حمایت کرے گا۔

اس سے پہلے بھی ویانا کی بین الاقوامی تنظیموں میں تعینات روس کے مستقل مندوب نے ایران اور آئی اے ای اے کے درمیان مفاہمت کو باہمی مشاورت کی اہمیت کی علامت قرار دے دیا۔

"میخائیل اولیانوف" نے اسلامی جمہوریہ ایران اور عالمی جوہری ادارے کے درمیان مشترکہ بیان جاری ہونے کے فورا بعدا ایک ٹوئٹر پیغام میں کہا کہ آئی اے ای اے کے سربراہ کے دورہ ایران سے اس تنظیم کیجانب سے دو متعین کردہ مقامات تک رسائی کی فراہمی ہوئی۔

واضح رہے کہ ایران اور عالمی ایٹمی ایجنسی نے ایک مشترکہ بیان میں آئی اے ای اے کیجانب سے نشاندہی کردہ معاملات کو نیک نیتی سے حل کرنے پر اتفاق کیا۔

بیان کے مطابق، ایجنسی کے پاس جوہری سرگرمیوں کا جائزہ لینے کے معاہدے اور ایڈیشنل پروٹوکول کے تحت ایران کے بیان کردہ بیانات سے آگے مقامات تک رسائی کیلئے کوئی سوال یا درخواستیں نہیں ہیں۔

تفصیلات کے مطابق، اسلامی جمہوریہ ایران اور عالمی ایٹمی ایجنسی نے رافائل گروسی کے دو روزہ دورہ ایران کے اختتام کے بعد ایک مشترکہ بیان جاری کیا۔

بیان کے مطابق، بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی اور اسلامی جمہوریہ ایران نے 16 جنوری 2016 سے عارضی طور پر ایران میں نافذ کردہ جوہری سرگرمیوں کا جائزہ لینے کے معاہدے اور ایڈیشنل پروٹوکول کے مکمل نفاذ میں آسانی پیدا کرنے کیلئے اپنے تعاون کو مزید مستحکم کرنے اور باہمی اعتماد کو بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

متعلقہ خبریں

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
4 + 11 =