پاکستانی سینیٹرز کی فلسطین کے ساتھ اظہار یکجہتی اور اسرائیل کی مذمت

اسلام آباد (ارنا) فلسطین کی آزادی کی حمایت اور غزہ کے مظلوم عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے قرارداد منظور کرتے ہوئے پاکستان کی سینیٹ نے اسرائیل کے جرائم کی مذمت کی اور غزہ کی ناکہ بندی اور جنگ بندی فوری طور پر ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔

پاکستان کی سینیٹ کا ایک خصوصی اجلاس اسلام آباد میں سینیٹ کے اسپیکر محمد صادق سنجرانی کی صدارت میں منعقد ہوا، جس میں حکومت اور اپوزیشن کے نمائندوں نے شرکت کی۔

اراکین نے غزہ میں غاصب اسرائیلی حکومت کے جرائم کے تسلسل، بچوں سمیت عام شہریوں کے قتل عام، الممدنی اسپتال سمیت طبی مراکز پر وحشیانہ حملوں اور صہیونیوں کی جانب سے فاسفورس بموں کے استعمال کی شدید مذمت کی۔

انہوں نے اسرائیل کو نسل پرست اور دہشت گرد حکومت قرار دیتے ہوئے کہا کہ غزہ کے عوام پر صیہونیوں کی شدید بمباری کے ساتھ ساتھ اس دہشت گرد حکومت کے ساتھ مغرب کی ملی بھگت اور انسانی حقوق کے عالمی فورمز کی خاموشی نے ایک انسانی المیہ کو جنم دیا ہے۔

اراکین  نے ایک قرارداد منظور کی جس میں اسرائیلی بمباری کو فوری طور پر بند کرنے، غزہ کا محاصرہ ختم کرنے، فوری فائر بندی اور غزہ کے مظلوم باشندوں کو امدادی سامان بھیجنے کے لیے انسانی ہمدردی کی راہداری کھولنے کا مطالبہ کیا گیا۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ فلسطینی صرف زمین اور پناہ گاہوں کا دفاع کر رہے ہیں اور درحقیقت یہ اسرائیل ہی ہے جو جرائم اور دہشت گردی کی کارروائیوں کا ارتکاب کرتا ہے۔

پاکستانی سینیٹرز نے فلسطینی عوام کے تحفظ، غزہ کی صورتحال سے نمٹنے اور انسانیت کے خلاف صہیونیوں کے جرائم کی روک تھام کے لیے اسلامی ممالک کے حکمرانوں سے اجتماعی ردعمل کا مطالبہ کیا۔

ہفتہ 7 اکتوبر 2023 کو فلسطینی مزاحمتی قوتوں نے قابض حکومت کے ٹھکانوں کے خلاف غزہ (جنوبی فلسطین) سے "الاقصی طوفان" کے نام سے ایک حیرت انگیز آپریشن شروع کیا۔ صیہونی حکومت نے غزہ کی پٹی کی گزرگاہوں کو بند کر دیا ہے اور اس علاقے کے رہائشی اور طبی علاقوں پر مسلسل بمباری جاری ہے۔

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .