اجنبیوں پر بھروسہ کرنے سے کوئی حکومت قائم نہیں رہ سکتی ہے: سنیئر نائب ایرانی صدر

تہران، ارنا -  سنیئر نائب ایرانی صدر نے بیرونی حکومتوں اور طاقتوں پر بھروسہ کرنے سے کوئی حکومت قائم نہیں رہ سکتی ہے۔

یہ بات محمد مخبر نے بدھ کے روز افغانستان کے پڑوسی ممالک کے وزرائے خارجہ کے دوسرے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

انہوں نے  کہا کہ بیرونی حکومتوں اور طاقتوں پر بھروسہ کرنے سے کوئی حکومت قائم نہیں رہ سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ نے افغانستان سے فرار ہو کر دو دہائیوں کی نا اہلی اور قبضے کے نتیجے کو افغان عوام اور پڑوسیوں کے کندھوں پر بوجھ ڈال دیا۔

انہوں نے افغانستان میں ہونے والی تبدیلیوں کے بارے میں کہا کہ ہمسایہ ممالک کی سلامتی افغانستان کی سلامتی کے ساتھ جڑی ہوئی ہے اسی لیے ہم نے افغانستان کے پڑوسی ممالک کے پہلے اجلاس کے انعقاد کے لیے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے اقدام کی حمایت کے لیے ایران میں اس اجلاس کے دوسرے دور کی میزبانی کی اور چین میں اس اجلاس کے تیسرے دور کا خیرمقدم کریں گے۔

مخبر نے بتایا کہ افغانستان کے عوام چار دہائیوں سے زائد عرصے سے عدم استحکام، عدم تحفظ، جنگ اور خونریزی کا شکار ہیں۔

محمد مخبر نے افغانستان کے شہداء خصوصاً قندوز اور قندھار کے نمازیوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے اس حملے میں زخمی ہونے والوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی اور  اس سوال کو اٹھایا کہ خطے اور افغانستان کی اس اسفناک صورتحال کا ذمہ دار کون ہے؟

انہوں نے کہا کہ امریکہ اور نیٹو میں ان کے اتحادیوں نے پہلے دو دہائیوں میں نائن الیون کے حملوں کے بہانے اور دہشت گردی سے لڑنے کے بہانے سے افغانستان پر حملہ کیا لیکن لیکن افغانستان پر امریکہ کے 20 سالہ قبضے اور جارحیت کا نتیجہ عدم تحفظ، پھیلاؤ، انتہا پسندی، دہشت گردی کے عروج، معاشی پسماندگی، منشیات کی پیداوار میں اضافہ اور افغان خاندانوں کو سوگوار بنانے کے سوا کچھ نہیں نکلا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ افغانستان میں ایک حکومت کی تشکیل کیلیے امریکہ کی غیر معقول اور غیر ذمہ دارانہ پالیسی نہ صرف ناکام ہوئی بلکہ واشنگٹن کی خاموشی نے ظاہر کیا کہ امریکہ کتنا گزشتہ دو دہائیوں میں اس ملک کے لوگوں، ثقافت اور سماجی ماحول سے اجنبی رہا ہے۔

مخبر نے بتایا کہ امریکی عوام کی سلامتی اور مستقبل کی ذمہ داری کے احساس کے بغیر امریکہ کے شرمناک فرار نے دردناک اور سبق آموز مناظر پیدا کیے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ افغان عوام کے لیے سلامتی، امن، استحکام اور خوشحالی نہیں لا سکتا۔

 انہوں نے کہا کہ اگرچہ ہم امریکی قبضے کو خطے اور افغانستان کے ممالک کے لیے ایک موقع کے طور پر دیکھتے ہیں، لیکن واضح رہے کہ افغانستان سے فرار ہو کر امریکا نے دو دہائیوں کی نااہلی اور قبضے کا نتیجہ افغانوں کے کندھوں پر ڈال دیا ہے۔

سنیئر نائب ایرانی صدر نے مزید کہاکہ آج افغانستان کے عوام اور حکمرانوں کا فرض ہے کہ وہ رجعت پسندوں اور جارحیت پسندوں کو افغان عوام کی سلامتی کو خطرے ڈالنے کی اجازت نہ دیں۔

مخبر نے کہا کہافغانستان کا معاشی بحران ایک اور چیلنج ہے جو امریکہ کی غلط اور تسلط پسندانہ پالیسیوں کی وجہ سے مزید بڑھ گیا ہے۔

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha