دنیا فخری زادہ کے قتل پر انسانی حقوق کے دعویداروں کے رد عمل کا انتظار کر رہی ہے

اسلام آباد، ارنا- پاکستان میں قائم اسلامی جمہوریہ ایران کے سفارتخانے نے ایک بیان میں اعلی ایرانی سائنسدان کے قتل میں ناجائز صہیونی ریاست کے کردار پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ دنیا فخری زادہ کے قتل پر انسانی حقوق کے دعویداروں کے مناسب رد عمل کا انتظار کر رہی ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ شہید محسن فخری زادہ اسلامی جمہوریہ ایران کے سرکاری عہدیدار تھے لہذا ان کا قتل، بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی سمیت اقوام متحدہ کے چارٹر اور تمام بین الاقوامی اصولوں کیخلاف ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ شہید فخری زادہ کے علاوہ کچھ ایرانی شہری بھی شہید اور زخمی ہوگئے ہیں جس کی وجہ سے یہ حملہ انسانی حقوق اور زندگی کے حق کیخلاف اقدام ہے۔

ایرانی سفارتخانے نے اس قتل میں ناجائز صہیونی ریاست کے کردار پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس حملے کی ذمہ داری ناجائز صہیونی ریاست اور اس کے اتحادیوں پر عائد ہوتی ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ قتل صیہونی ریاست کے ایران اور خطے میں ہونے والے قتل و غارت گری کے سلسلے کا ایک حصہ ہے اور اسی وجہ سے اسے ریاستی دہشت گردی سمجھا جاتا ہے۔

بیان میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ توقع کی جاتی ہے کہ انسانی حقوق کے دعویدار ممالک اس دہشتگردی کاروائی کیخلاف مناسب رد عمل ظاہر کریں۔

واضح رہے کہ ایران کے ایٹمی پروگرام کے بانی سائنسدان محسن فخری زادہ کو 27 نومبر میں تہران میں ایک دہشتگردانہ حملے میں شہید کر دیا گیا۔

ایران کے دارالحکومت تہران کے علاقے دماوند میں مسلح افراد نے ایرانی سائنسدان کی گاڑی پر حملہ کیا؛ حملہ آوروں نے ان کی گاڑی کے قریب دھماکا اور فائرنگ کی جس کے نتیجے میں سائنس دان محسن فخری زادہ شدید زخمی ہوگئے، اُنہیں قریبی اسپتال منتقل کیا گیا تاہم وہ جانبر نہ ہوسکے۔

 اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ "محمد جواد ظریف" نے شہید  فخری زادہ کے قتل کی ذمہ داری ناجائز صہیونی ریاست پر عائد کی ہے۔

ظریف نے ایک ٹوئٹر پیغام میں کہا کہ شہید فخری زادہ کے قتل میں ناجائز صہیونی ریاست کے ملوث ہونے کے ٹھوس شواہد موجود ہیں۔

اس کے علاوہ ایرانی سپریم لیڈر حضرت آیت اللہ خامنہ ای نے بھی ایٹمی اور دفاعی شعبے میں اعلی ایرانی سائنسدان کی شہادت میں ملوث افراد کی شناخت اور سزا دینے پر زور دیا۔

قابل ذکر ہے کہ محسن فخری زادہ ایران کی وزارت دفاع کی ریسرچ اورانوویشن تنظیم کے سربراہ تھے اور وہ ایران کے سینیئر ترین ایٹمی سائنسدان تھے؛ محسن فخری زادہ کا شمار ایران کے ایٹمی پروگرام کے بانیوں میں ہوتا ہے۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
3 + 11 =