امریکہ کو جوہری معاہدے کے میکنزم کے استعمال کا کوئی حق نہیں ہے: روحانی

تہران، ارنا- اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر مملکت نے امریکی نئی تجویز کو سلامتی کونسل کی قرارداد سمیت جوہری معاہدے کیخلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکی اقدامات ایران جوہری معاہدے کی تباہی کے سلسلے میں ہیں اور امریکہ کو جوہری معاہدے کے میکنزم کے استعمال کا کوئی حق نہیں ہے۔

ان خیالات کا اظہار ڈاکٹر "حسن روحانی" نے آج بروز بدھ کو اپنے فرانسیسی ہم منصب "ایمانوئل میکرون" کیساتھ ایک ٹیلی فونک رابطے کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ یورپ کو امریکہ کے اقدامات سے متاثر ہوکر اس کے جال میں نہیں پھنسنا چاہیے۔

صدر روحانی نے کہا کہ سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر 2231 کے مطابق 18 اکتبر کو ایرانی اسلحے کیخلاف عائد کی گئی پابندیوں کو اٹھانا ہوگا اور امریکہ کو اس کے بغیر کوئی اقدام اٹھانے کا ارادہ ہے تو وہ اس قرارداد کیخلاف ورزی ہے۔

انہوں نے ایران جوہری معاہدے کے تحفظ اور قرارداد 2231 پر عمل پیراہونے کو جوہری معاہدے کے اراکین کے کیے گئے وعدوں کے مطابق قرار دیتے ہوئے کہا کہ توقع کی جاتی ہے کہ ایران، تین یورپی ممالک، چین اور روس کے درمیان عالمی جوہری ادارے، جوہری ادارے کے بورڈ آف گورنرز اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں تعمیری تعاون اور باہمی مشاورت ہوجائے تا کہ جوہری معاہدے کے مخالف ممالک کو اپنے مقاصد تک پہنچنے میں روک دیں۔

صدر روحانی نے کہا کہ جوہری معاہدے سے امریکی علیحدگی کے دوسال گزرنے کے پیش نظر امریکہ کہ جوہری معاہدے کے میکنزم کے استعمال کا کوئی حق نہیں ہے۔

انہوں نے عالمیگر وبا کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے دوران امریکہ کیجانب سے ایران مخالف غیرقانونی اور غیر انسانی پابندیوں کی مذمت کرتے ہوئے اسے 2005ء میں عالمی ادارہ صحت کے قوانین کیخلاف قرار دے دیا اور حالیہ صورتحال میں یورپ کیجانب سے ایران سے معاشی تعلقات کو فعال کرنے کی ضروت پر زور دیا۔

صدر روحانی نے لبنانی شہر بیروت کے حالیہ دھماکے پر تبصرہ کرتے ہوئے لبنانی عدلیہ کے عہدیداروں کو اس حادثے میں ملوث افراد کی پہچان میں مدد کی ضرورت پر زور دیا۔

انہوں نے اس حادثے کے فورا بعد ایران کیجانب سے لبنان کو امداد بھیجنے کا ذکرکرتے ہوئے کہا کہ  لبنان کو سیاسی گروہوں میں زیادہ اتحاد کی ضرورت ہے اور ہم سب کو اس اتحاد کو پیدا کرنے میں مدد کرنی ہوگی۔ لبنان کو آج ایک مضبوط حکومت کی ضرورت ہے اور اس سلسلے میں لبنانی پارلیمنٹ اور تمام فریقوں کو مل کر کام کرنا ہوگا۔

صدر روحانی نے اپنے فرانسیسی ہم منصب کیجانب سے لبنان کے مسائل کے حل سے متعلق بین الاقوامی امداد گروپ میں ایران کی شرکت کی دعوت کا خیر مقدم کیا۔

انہوں نے کرونا وائرس کے بحران پر قابو پانے کیلئے تمام ملکوں کے درمیان تعاون کی ضرورت پر زوردیا۔

اس موقع پر فرانسیسی صدر نے جوہری معاہدے کے تحفظ کی ضرورت پر زوردیتے ہوئے کہا کہ ایرانی اسلحے کیخلاف پابندیوں کی توسیع سے متعلق ہمارا موقف امریکہ سے بالکل الگ ہے اور ہم نے بارہا اس موقف کا واضح طور پر بیان کیا ہے۔

میکرون نے کہا کہ ایران اور یورپ کے درمیان مالیاتی نظام کے فعال ہونے کا بند و بست کر رہے ہیں۔

فرانسیسی صدر نے لبنان کے حالیہ دھماکے اور اپنے حالیہ دورہ لبنان پر تبصرہ کرتے ہوئے لبنان کے سیاسی بحران کے حل میں ایرانی مدد کا مطالبہ کیا اور لبنان کے مسائل کے حل سے متعلق بین الاقوامی امداد گروپ میں ایران کی شرکت کی دعوت کی۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

متعلقہ خبریں

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
9 + 5 =