15 مارچ، 2024، 6:44 PM
Journalist ID: 5390
News ID: 85419298
T T
0 Persons

لیبلز

بیت المقدس سرزمین فلسطین کا اٹوٹ حصہ اور دارالحکومت ہے: اسلامی تعاون تنظیم

تہران/ ارنا- اسلامی تعاون تنظیم نے ایک بیان جاری کیا ہے جس میں زور دیکر کہا گیا ہے کہ بیت المقدس فلسطین کا اٹوٹ حصہ اور اس کا دارالحکومت ہے اور مسجد الاقصی مکمل طور پر مسلمانوں کی عبادتگاہ ہے۔

اس بیان میں درج ہے کہ مسجد الاقصی کے حدود میں لوہے کی سلاخیں لگا کر اور اس مبارک مقام تک پہنچنے میں رکاوٹیں کھڑی کرکے صیہونی حکومت قبلہ اول کی قانونی اور تاریخی حیثیت کو تبدیل کرنا چاہتی ہے۔ او آئی سی کے اس بیان میں صیہونیوں کی ان حرکتوں کو ناقابل قبول اور قابل مذمت قرار دیا گیا ہے۔

اسلامی تعاون تنظیم کے بیان میں مسجد الاقصی اور اس کے صحنوں اور وہاں پر موجود نمازیوں پر صیہونی آبادکاروں اور فوجیوں کے حملوں کو بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا گیا ہے اور زور دیکر کہا گیا ہے کہ بیت المقدس، مسجد الاقصی اور مسلمانوں اور عیسائیوں کے مذہبی اور مقدس مقامات پر مسلسل دراندازی کے ذریعے صیہونی حکومت اپنا تسلط قائم کرنا چاہتی ہے جو کہ عالمی قوانین کے منافی ہے۔

اسلامی تعاون تنظیم کے بیان میں درج ہے کہ مسجد الاقصی اور بیت المقدس میں موجود مقدس مقامات کے احترام اور آزادی عبادت کی توہین اور خلاف ورزی کے نتائج کی ذمہ داری مکمل طور پر  صیہونی حکومت پر عائد ہوتی ہے۔

اس بیان میں عالمی برادری سے اپیل کی گئی ہے کہ اپنی ذمہ داریاں پوری کرتے ہوئے صیہونی حکومت کے ان اقدامات پر روک لگائے جس کے نتیجے میں پورے علاقے میں تشدد اور کشیدگی پھیل رہی ہے اور سلامتی اور استحکام متاثر ہو رہا ہے۔

یاد رہے کہ آج صبح سے ہی صیہونی فوجیوں نے ہزاروں نمازیوں کو مسجد الاقصی میں داخل ہونے اور ماہ مبارک رمضان کی پہلی نماز جمعہ ادا کرنے سے روک دیا۔

بتایا جا رہا ہے کہ صیہونیوں نے قلندیا، الزیتونہ اور بیت اللحم مین متعدد چیک پوسٹ قائم کرکے نمازیوں کو پریشان کرنا شروع کردیا اور انہیں اجازت نامہ نہ ہونے کے بہانے مسجد الاقصی میں داخل ہونے نہیں دیا۔

اس کے علاوہ ہزاروں صیہونی پولیس افسروں کو بیت المقدس کے قدیم علاقے میں تعینات کرکے مسجد الاقصی کو اپنے محاصرے میں لے لیا۔

بتایا جا رہا ہے کہ ان تمام رکاوٹوں کے باوجود غرب اردن کے 80 ہزار فلسطینیوں نے مسجد الاقصی میں باجماعت نماز ادا کی۔

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .