پابندیوں کو ہٹانے کیلئے بھرپور طریقے سے کوشش کی جا رہی ہے: ایرانی صدر

تہران، ارنا – ایرانی صدر مملکت نے کہا ہے کہ ان کی حکومت ایران مخالف پابندیوں کو ہٹانے کے مسئلے پر بھرپور طریقے سے کام کر رہی ہے بعض لوگوں کا خیال ہے کہ ہمارے پاس کہنے کے لیے کوئی اقدام اور لفظ نہیں ہے اور ہم مذاکرات میں شرکت نہیں کریں گے مگر اسلامی جمہوریہ ایران نے فخر اور طاقت کے ساتھ شرکت کی اور جوہری معاہدے کے مطابق ایٹمی اور پابندیوں پر دو متن پیش کئے۔

یہ بات صدر "ابراہیم رئیسی" نے اتوار کی شام ایرانی ٹی وی کے پہلے چینل پر عوام سے اپنے براہ راست خطاب کرتے ہوئے کہی۔
انہوں نے مذاکرات کے خاتمے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حکومت نے اپنے فرائض کے آغاز سے ہی دو چیزوں پر عمل کیا ہے، پہلا اس پابندی کو ختم کرنا ہے جو سنيئر نائب صدر کی سربراہی میں ہیڈکوارٹر میں ایجنڈے میں ڈالی گئی ہے اور دوسرا پابندیوں کو ہٹانا ہے۔
صدر رئیسی نے کہا کہ بعض قیاس آرائیوں کے باوجود کہ ایران کے پاس جوائنٹ کمپری ہینسو پلان آف ایکشن کے مشترکہ کمیشن کے اجلاس کو پیش کرنے کے لیے اقدامات اور قابل الفاظ کی کمی ہے مگر ملک نے طاقتور اور باوقار طریقے سے مذاکرات میں حصہ لیا۔
انہوں نے کہا کہ ایرانی وفد نے اجلاس کو دو اسکرپٹس بھی پیش کیں جن میں جوہری سرگرمیوں اور جوہری معاہدے کے مواد کی بنیاد پر پابندیوں کے خاتمے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے اپنے تبصروں میں ترکمانستان اور تاجکستان کے دارالحکومتوں بالترتیب اشک آباد اور دوشنبے میں ہونے والی دو بین الاقوامی نشستوں میں اپنی حالیہ موجودگی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ 100 دنوں کے دوران ہم نے اس بات کا اعادہ کیا ہے، غیر ملکی وفود اور حکام کے ساتھ روابط کے ساتھ ساتھ ٹیلی فونگ بات چیت کے دوران، ایران دنیا کے ساتھ سیاسی، اقتصادی، سماجی اور ثقافتی تعلقات کو فروغ دے گا۔
انہوں نے کہا کہ شنگھائی سربراہی اجلاس میں موجود رہنماؤں سے ملاقاتوں میں ان ممالک کے ساتھ ایران کے تعلقات کی ترقی پر زور دیا اور ہم میں سے کوئی بھی اس رابطے سے مطمئن نہیں تھا۔
انہوں نے کہا کہ وزارت خارجہ کے مطابق، تاجکستان کے ساتھ ہماری تجارت اشک آباد کے سفر کے بعد سے تین گنا بڑھ گئی ہے، شنگھائی میں ایران کی مستقل رکنیت قبول کرنے کے بعد، ہم نے اقتصادی کارکنوں سے مطالبہ کیا وہ فعال ہو جائیں۔
ایرانی صدر نے اقتصادی تعاون تنظیم (ای سی او) کے سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے ترکمانستان کے دورے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مذاکرات کے نتیجے میں ایران اور ترکمانستان کے درمیان پانچ سالہ مسائل بشمول راہداری کا مسئلہ بھی حل ہو گیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس دورے کے دوران ترکمانستان، ایران اور آذربائیجان کے درمیان گیس کے تبادلے کے معاہدے پر بھی دستخط کیے گئے جو ایران کو علاقائی ٹرانزٹ حب میں تبدیل کرنے کے لیے ایک اچھی زمین ثابت ہو سکتا ہے۔
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

متعلقہ خبریں

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha