ایران سے تعلقات کا فروغ روسی خارجہ پالیسی کی ترجیحات میں سرفہرست ہے: لاوروف

ماسکو، ارنا- روسی وزیر خارجہ "سرگئی  لاوروف" نے اپنے دورہ ایران کے قریب ہونے کے موقع پر ارنا نمائندے سے خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ سیاسی، تجارتی اور معاشی شعبوں میں دونوں ملکوں کے تعلقات مضبوط ہونے جار رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ وہ آئندہ دورہ ایران کے موقع پر اپنے ایرانی ہم منصب "محمد جواد ظریف" سے ایک ملاقات میں دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کی مزید مضبوطی کے طریقوں کا جائزہ لیں گے۔

روسی وزیر خارجہ نے ارنا نمائندے کے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ہماری نظر میں، اصل مسئلہ یہ ہے کہ واشنگٹن عالمی تسلط برقرار رکھنے کی اپنی ناقص پالیسی کو ترک نہیں کرسکتا، جو سوویت یونین کے خاتمے کے بعد 1990ء کی دہائی کے اوائل میں شروع ہوا تھا۔ یہ بات آج سب کیلئے واضح ہے کہ ایسی پالیسی بالکل غیر تعمیری ہے ۔

71 سالہ سرگئی لاوروف جو بارہا ایران کا دورہ کیا ہے، نے ماسکو میں تعینات ارنا نمائندے سے ایک خصوصی انٹرویو کے دوران، اپنے آئندہ دورہ ایران کے مقاصد، بین الاقوامی اور علاقائی سطح میں دونوں ممالک کے تعلقات اور تہران- ماسکو کی تجارتی لین دین سے متعلق گفتگو کی۔

روس میں تعینات اسلامی جمہوریہ ایران کے سفیر "کاظم جلالی" نے بھی ارنا نمائندے سے انٹرویو دیتے ہوئے لاوروف کے دورے ایران کو انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس دورے میں دو اہم دستاویز بشمول "ثقافتی تعاون کی یادداشت" اور "مشترکہ ایکشن پلان" پر دستخط ہوگا۔

روسی وزیر خارجہ نے اپنے علاقائی دورے کے دوران، تہران کی آمد سے پہلے قاہرہ میں مصری حکام سے ملاقاتیں کیں۔

تفصیلی انٹرویو درج ذیل ہے؛

*** جوہری معاہدے کے بھر پور نفاذ کیلئے تہران اور ماسکو کا گہرا تعاون ہے

ارنا نمائندہ: آپ کے آئندہ دورے ایران کے کیا مقاصد ہیں؟ ایران اور روس کے درمیان مارچ 2001ء میں طے پانے والے تعاون کا معاہدہ، دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات پر کیا کیا اثرات مرتب کرے گا؟

روسی وزیر خارجہ: اسلامی جمہوریہ ایران سے تعلقات کا فروغ، روس کی خارجہ پالیسی کی ترجیحات میں سے ایک ہے۔ 21 مارچ 2021ء کو اس معاہدے کی 20 ویں سالگرہ تھی جن پر ایران اور روس کے اسی وقت کے وزرائے خارجہ نے ماسکو میں دستخط کیے تھے۔ جس میں دونوں فریقین نے برابری اور باہمی اعتماد پر مبنی اصولوں کے مطابق تعلقات برقرار رکھنے کی تصدیق کی۔ ایران اور روس نے وعدہ دیا کہ وہ ایک ایک دوسری کی سرزمینوں کی خودمختاری، آزادی اور قومی سالیمت کا احترام کرتے ہوئے ایک دوسرے کے اندرونی معاملات میں کبھی مداخلت نہیں کریں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس معاہدے کے مسلسل نفاذ سے ایران اور روس کے درمیان تعلقات کی اعلی سطح پر پہنچ گئی۔ اور اب دونوں ملکوں کے درمیان بہت ہی تعمیری اور فعال تعاون ہے۔ اور مختلف سیاسی، تجارتی، اقتصادی، سائنسی، تکنیکی اور ثقافتی شعبوں میں باہمی تعلقات مضبوط ہونے جار رہے ہیں۔

روسی وزیر خارجہ نے کہا کہ ایران میں بڑے پیمانے پر بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کا آپریشنل اور نفاذ کیا جا رہا ہے اور بوشہر میں واقع ایٹمی پاور پلانٹ کے منصوبے پر بھی کام جاری ہے۔

سرگئی لاوروف نے مزید کہا کہ صحت بالخصوص کورونا وائرس کیخلاف مقابلہ کرنے میں باہمی تعاون کی توسیع ہور ہی ہے؛ روس میں تیار کردہ اسپوٹنک وی ویکسین کی کھیپیں ایران بھیجی جار رہی ہیں اور اس ویکسین کو ایران میں تیار کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران اور روس کے درمیان جوہری معاہدے کے بھر پور نفاذ کیلئے گہرا تعاون ہے اور ہم آستانہ امن عمل کے فریم ورک کے اندر شامی بحران کے حل پر اپنی باہمی کوششوں کا سلسلہ جاری رکھیں گے اور مشرق وسطی کے امور سے متعلق بدستور ایک دوسرے کیساتھ رابطے میں ہیں۔

روسی وزیر خارجہ نے کہا کہ یہ کہنا بجا ہے کہ روس اور ایران کے مابین تعاون سے علاقائی استحکام کو برقرار رکھنے میں مدد ملے گی، اور وسیع تر ویژن میں اقوام متحدہ کے چارٹر کے اصولوں کے مطابق بین الاقوامی زندگی میں ترقی ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ وہ مستقبل قریب میں اپنے ایرانی ہم منصب "محمد جواد ظریف" سے ملاقات میں دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کی مضبوطی کے طریقوں کا جائزہ لیں گے۔

*** شمال-جنوب بین الاقوامی راہداری کے نفاذ پر تہران اور ماسکو کا پختہ عزم ہے

ارنا نمائندہ: ایران اور روس کی خطے میں خاص طور پر "شمال- جنوب" راہداری کی ترقی میں ایک خاص اسٹرٹیجک پوزیشن ہے، اس منصوبے کیلئے دونوں ممالک کو کیا اقدامات اٹھانے ہوں گے؟ اور اس کی راہ میں کیا رکاوٹیں پیدا ہوسکتی ہیں؟ اس منصوبے سے علاقائی اور عالمی سطح پر کیا اثرات مرتب ہوں گے؟

روسی وزیر خارجہ: معاشی اور تجارتی تعاون کی پائیدار ترقی کا بڑی حد تک ترقی یافتہ لاجسٹکس تعلقات سے منسلک ہے؛ شمال- جنوب انٹرنیشنل ٹرانسپورٹ راہداری، کثیرالجہتی تعاون کی ایک مثبت مثال ہے۔ یہ منصوبہ خطے کا بنیادی انفراسٹرکچر منصوبہ ہے جو مختلف حکومتوں کے مابین باہمی  عمیری تعاون بڑھانے میں مددگار ہوگا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران  اور روس کو اس اقدام کو عملی جامہ پہنانے میں رہنما کا کردار حاصل ہے کیونکہ زمینی راستے کا ایک بڑا حصہ ان کی سرزمینوں میں ہے؛ اس سلسلے میں، روڈ ٹرانسپورٹ کے جدید انفراسٹرکچر کی تشکیل خاص اہمیت کا حامل ہے۔

سرگئی لاوروف نے کہا کہ اس مقصد کے لئے روس میں بحیرہ کیسپین سے متعلق اصولوں کو مد نظر رکھتے ہوئے حکومتی سطح کے ضروری پروگراموں کو منظوری دے دی گئی ہے اور ان پر عمل درآمد کیا جارہا ہے؛ ہم جانتے ہیں کہ تہران بھی اس مسئلے پر بہت زیادہ توجہ دیتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ توقع کی جاتی ہے کہ ایرانی فریق، کیسپین بندرگاہ کی طرف راستوں (انزلی خصوصی اقتصادی زون) کی تعمیر اور آذربائیجان ریلوے لائن منصوبے کو کامیابی سے مکمل کرے گا جس سے شمال- جنوب  انٹرنیشنل راہداری کی صلاحیت میں مزید اضافہ ہوجائے گا۔

روسی وزیر خارجہ نے کہا کہ یہ ایران اور یوریشیا کی معاشی یونین کے درمیان کامیاب سرگرمیوں میں اضافے میں موثر کردار ادا کرسکتا ہے؛ 2018ء میں آزاد تجارتی زون کے قیام پر عبوری معاہدے کے دستخط  سے اس تعاون کا باضابطہ طور پر آغاز کیا گیا اور 11 دسمبر 2020ء کو، آزاد تجارتی زون پر مستقل معاہدے پر بات چیت شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا اور ہم اس حوالے سے کسی بھی کوشش سے دریغ نہیں کریں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ توقع کی جاتی ہے کہ مستقبل میں "شمال- جنوب" بین الاقوامی ٹرانسپورٹ راہداری، ایران کے جنوبی ساحل سے لے کر روس کے شمالی شہروں تک ایک "مربوط" نقل و حمل، اور معاشی جگہ بنانے کی بنیاد بن جائے گی۔

روسی وزیر خارجہ نے حالیہ دنوں میں، سوئیز کینال کی بندش پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس مسئلے سے سامان کی نقل و حمل میں زمینی راستوں کے کردار کی اہمیت ظاہر ہوتی ہے۔

*** واشنگٹن کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ وہ عالمی تسلط برقرار رکھنے کی اپنی ناقص پالیسی کو ترک نہیں کرسکتا

ارنا نمائندہ: ایسا لگتا ہے کہ امریکی نئی حکومت بھی ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسی کو کسی اور طریقے سے جاری رکھتی ہے؛ آپ کی رائے اس حوالے سے کیا ہے؟ ہمارے ممالک کو بائیڈن کے یکطرفہ اقدامات سے نمٹنے کیلئے کیا اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے؟

روسی وزیر خارجہ: ہماری نظر میں، اصل مسئلہ یہ ہے کہ واشنگٹن عالمی تسلط برقرار رکھنے کی اپنی ناقص پالیسی کو ترک نہیں کرسکتا، جو سوویت یونین کے خاتمے کے بعد 1990ء کی دہائی کے اوائل میں شروع ہوا تھا۔ یہ بات آج سب کیلئے واضح ہے کہ ایسی پالیسی بالکل غیر تعمیری ہے خاص طور جب دنیا جمہوریت کے قیام، انصاف اور پائیدار دنیا کی تشکیل کی طرف گامزن ہے۔

انہوں نے کہا کہ بہر حال امریکی حکام، اپنے یورپی اتحادیوں کی حمایت سے اقوام متحدہ کے بین الاقوامی اور قانونی اصولوں کو ترک کرکے اس کی جگہ "قانون کی بنیاد پر نظم و ضبط" کیسی ایسی چیز لے کر جارحانہ اقدامات کررہے ہیں۔

لاوروف نے کہا کہ ہم تمام قوانین کی تعمیل ہونے پر کوئی اعتراض نہیں کرتے ہیں، لیکن اس صورت میں ان کو نہ صرف واشنگٹن اور اس کے حامیوں کیجانب سے اقوام متحدہ کے اصولوں کو بائی پاس نہیں کرنا چاہیے بلکہ ان کو عالمی سطح پر تسلیم شدہ بین الاقوامی قوانین کے اصولوں پر عمل کرنا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ اسی تناظر میں، میں مغربی حکومتوں کیجانب سے آزاد ممالک کیخلاف بڑے پیمانے پر دباؤ کا ذکر کرنا چاہتا ہوں؛ در اصل یہاں مختلف طریقوں بشمول مالی پابندیوں، ویزہ پابندیوں، انٹیلیجنس معلومات کیخلاف ایجنٹوں اور جبر سے دیگر ملکوں کے اندرونی معاملات میں براہ راست مداخلت کی بات ہے۔

روسی وزیر خارجہ نے کہا کہ اصل میں ہم یہاں، نو نوآبادیاتی خارجہ پالیسی کی سوچ سے سرو کار رکھتے ہیں جو دنیا کو "منتخب" اور دوسرے ممالک میں تقسیم کرتی ہے۔ اگر پہلے گروپ کو کسی بھی کارروائی میں انتہائی حق حاصل ہے تو، ایسا لگتا ہے کہ دوسرا گروپ، واشنگٹن کے ذریعے جاری کردہ قراردادوں پر عمل کرنے کا پابند ہے؛ یہ واضح ہے کہ روس، ایران اور دنیا کے بیشتر ممالک کے لئے یہ قابل قبول نہیں ہے۔

روسی وزیر خارجہ نے ارنا نمائندے کے سوال کے دوسرے حصے سے متعلق کہا کہ اقوام متحدہ اور دیگر کثیرالجہتی پلیٹ فارموں سمیت اپنے بین الاقوامی تعاون کو مضبوط بنانا ضروری ہے؛ خاص طور پر جیسا کہ میں نے پہلے کہا، ہمارے پاس بہت سارے ہم خیال افراد ہیں۔ بین الاقوامی برادری کے بیشتر افراد بین الاقوامی قانون، باہمی احترام اور باہمی غور و فکر کے اصولوں کے مطابق تعلقات کو فروغ دینے کی ضرورت کی حمایت کرتے ہیں اور وہ ہم سب کی طرح، "صفرکیساتھ جمع کرنے" کے جیو پولیٹیکل کھیلوں، دھمکیوں اور پابندیوں کو غیر قابل قبول قرار دیتے ہوئے دنیا میں بہتری آنے کی حمایت کرتے ہیں۔

*** ویانا اجلاس نے جوہری معاہدے میں امریکی تخریب کاری کی اصلاح کی امیدوں کو جنم دیا ہے

ارنا نمانئدہ: ایران بار بار بیان کرچکا ہے کہ وہ کبھی بھی جوہری ہتھیار رکھنے کا ارادہ نہیں کرتا ہے۔ امریکہ نے جوہری معاہدے سے علیحدہ ہوکر ایران کیخلاف بھاری پابندیاں عائد کیں۔ کیا عالمی برادری اور روس کا امریکی پابندیوں کا مقابلہ کرنے کا کوئی منصوبہ ہے؟

روسی وزیر خارجہ: روس کا عقیدہ ہے کہ ایران جوہری معاہدے کا کوئی نعم البدل نہیں ہے؛ جیسا کہ روسی صدر "ولادیمیر پیوٹین" نے بارہا کہا ہے کہ 2015ء کے معاہدے کے تحفظ کا واحد طریقہ، سارے فریقین کیجاب سے اپنے جوہری وعدوں پر عمل درآمد ہے؛ ویانا میں ایرانی اور امریکی نمائندوں کی شرکت سے اس حوالے سے مذاکرات کا از سر نو آغاز ایک خوشخبری ہے جو امریکہ کیجانب سے جوہری معاہدے کے نفاذ میں روڑے اٹکانے اور سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر 2231 کیخلاف ورزی جیسے مسائل کا حل ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ اس اقدام سے، ایران کیجانب سے اپنے جوہری وعدوں پر پورا اترنے کی راہ ہموارہوسکتا ہے اور ہم اس حوالے سے تہران اور واشنگٹن کیجانب سے تعمیری فیصلہ کرنے میں کردار ادا کرنے کیلئے کسی بھی کوشش سے دریغ نہیں کریں گے۔

روسی وزیر خارجہ نے کہا کہ واشنگٹن کیجانب سے عائد پابندیوں سے متعلق ہمارے موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آگئی ہے۔ ہم ویسے ہی معاشرے کے کمروز اور غریب افراد پر بُرے اثرات مرتب کرنے والے ہر کسی یکطرفہ اقدامات کے مخالف ہیں؛ روس بین الاقوامی میدان بشمول اقوام متحدہ میں اس طرح کے ناجائز اقدامات اور مسائل کا اٹھایا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ ہم معاشی آپریٹرز کے لئے پابندیوں کے خطرات اور ممکنہ اخراجات کو کم کرنے کی کوششوں میں اضافہ کرنے کو اہم سمجھتے ہیں؛ خاص طور پر، ہم مغرب کے زیر کنٹرول بین الاقوامی ادائیگی کے نظام کے استعمال کو روکنے کیلئے قومی معیشت کو آہستہ آہستہ ڈیولاریز کرنے، قومی کرنسیوں میں کراس بستیوں کو استعمال کرنے یا ڈالر کی جگہ لینے کیلئے اٹھائے جانے والے اقدامات سے متعلق بات کر رہے ہیں؛ روس اور تمام دلچسپی رکھنے والے غیر ملکی شراکت داروں کے ساتھ باہمی تعاون کا اچھا ویژن ہے ۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha