شنگھائی تعاون تنظیم میں ایران کی مستقل رکنیت سے متعلق بیجنگ اور ماسکو کا اہم کردار

تہران، ارنا- ایک ایسے وقت جب ماسکو کی میزبانی میں شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے وزرائے خارجہ کی کونسل کا اجلاس 8 اور 9 ستمبر کو انعقاد کیا جاتا ہے تو ماہرین اور تجزیہ کاروں کا عقیدہ ہے کہ اس تنظیم میں روس اور چین کے اہم کردار کے پیش نظر ان سے ایس سی او میں ایران کی مستقل رکنیت کیلئے راستہ ہموار کرنے میں فعال کردار ادا کرنے کی توقع کی جاتی ہے۔

شنگھائی تعاون تنظیم ایک یوریشیائی سیاسی، اقتصادی اور عسکری تعاون تنظیم ہے جسے شنگھائی میں سنہ 2001ء میں چین، قازقستان، کرغیزستان، روس، تاجکستان اور ازبکستان کے رہنماؤں نے قائم کیا؛ یہ تمام ممالک شنگھائی پانچ کے اراکین تھے سوائے ازبکستان کے جو 2001ء میں اس تنظیم شامل ہوا، تب اس تنظیم کا نام بدل کر شنگھائی تعاون تنظیم رکھا گیا؛ 10 جولائی 2015ء کو اس میں بھارت اور پاکستان کو بھی شامل کیا گیا۔

اگرچہ کہا جاتا ہے کہ روسی وزیر خارجہ "سرگئی لارورف" کی قیادت میں منعقدہ شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ کی کونسل کے اجلاس کا مقصد کرونا وائرس پر قابو پانے کے طریقوں کا جائزہ لینا ہے تا اہم اس اجلاس کا ایک اور اہم مقصد شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس کے انعقاد کی تیاریاں ہیں جو اکتبر مہینے کے دوران روس کی میزبانی میں انعقاد ہوگا۔

چونکہ روس اور چین شنگھائی تعاون تنظیم کے دو اہم اور طاقتور ارکان ہیں اور ان کے ایران سے سیاسی اور اقتصادی شعبوں میں اچھے اور تعمیری تعلقات ہیں تو بعض تجزیہ کاروں اور ماہرین کا عقیدہ ہے کہ ایس سی او پر روس کی قیادت کے وقت، ایران کو اس تنظیم میں مستقل رکنیت دینے کے شرایط کی فراہمی گزشتہ سے کہیں اور زیادہ کی گئی ہے۔

گزشتہ دو دہایئوں کے دوران، شنگھائی تعاون تنظیم کے اراکین جو پہلے ہی سے 6 تھے، میں اضافہ کیا گیا اور 2017ء میں پاکستان اور بھارت اس تنظیم کے مستقل رکن بن گئے اور اس کے بعد بھی ایران، افغانستان، بیلاروس اور منگولیا بھی اس تنظیم کے مبصر رکن بن گئے۔

 شنگھائی تعاون تنظیم میں ایران کی مستقل رکنیت، ایران اور دیگر اراکین کیلئے مختلف شعبوں بشمول اقتصادی اور سیاسی میں نئے مواقع فراہم کرنے سمیت مختلف کامیابیوں کے حصول کا باعث بنے گی اور ساتھ ہی اسلامی جمہوریہ ایران اس موقع سے علاقے میں اپنی پوزیشن کو بڑھانے اور قومی مفادات سمیت دیگر اراکین سے اقتصادی تعاون کو بڑھانے کیلئے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔

 ماہرین کا عقیدہ ہے کہ ایک ایسے وقت جب ایران کیخلاف امریکہ کی شدید پابندیاں عائد کی گئی ہیں تو بلاشبہ بحثیت ایس سی او کے طاقتور رکن کے چین کیجانب سے ایران کی شنگھائی تعاون تنظیم میں مستقل رکنیت کی حمایت انتہائی اہم ہے۔

اور دوسری طرف شنگھائی تعاون تنظیم میں ایران کی مستقل رکنیت، دیگر اراکین کے درمیان اقتصادی تعاون میں اضافہ کرنے اور اس اجلاس کے کردار کا فروغ دینے میں مددگار ثابت ہوگی۔

اس کے علاوہ شنگھائی تعاون تنظیم کے سیکرٹری جنرل "ولادیمیر نورف" نے حالیہ دنوں میں چین میں تعینات ایرانی سفیر سے ایک ملاقات میں کہا ہے کہ "شنگھائی تعاون تنظیم کے سیکرٹریٹ اور ارکان کے درمیان روڈمیپ" جس پر گزشتہ سال کے دوران ایس سی او کے رکن ممالک کے وزرائے خارجہ کی کونسل کے اجلاس میں دستخط کیا گیا، نے ایران اور دیگر اراکین کے درمیان تعاون کے فروغ میں مناسب فضا کی فراہمی کی۔

نوروف کے مطابق "روڈ میپ" رکن ممالک کے درمیان تعاون کے فروغ اور تجارتی اور اقتصادی تعلقات کی توسیع میں مناسب مواقع کی فراہمی کرے گا اور ایران کے فعال کردار کے پیش نظر وہ اس تنظیم کے بعض ایونٹ کے انتظام کو سنبھال کر سکے گا۔

 اس موقع پر ایرانی سفیر "محمد کشاورز زادہ" نے بھی اس بات پر زور دیا کہ اسلامی جمہوریہ ایران شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک سے تعلقات کے فروغ پر دلچسبی رکھتا ہے۔

گزشتہ 7 سالوں کے دوران، شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ اور سربراہی اجلاسوں میں اسلامی جمہوریہ ایران کے حکام نے بدستور ایس سی او کے اراکین کے درمیان ہمہ جہتی تعاون پر زور دیتے ہوئے تعاون کے فروغ پر آمادگی کا اظہار کرلیا ہے۔

 اس کے علاوہ ایرانی صدر ممکلت ڈاکٹر حسن روحانی نے شنگھائی تعاون تنظیم کے اراکین بالخصوص چین اور روس کے حکام سے متعدد ملاقاتوں کے دوران باہمی تعاون کے فروغ پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران خاص جغرافیائی پوزیشن کی وجہ سے شنگھائی تنظیم کے اراکین بالخصوص چین اور روس سے مشترکہ اقتصادی منصوبوں کے نفاذ پر تیار ہے۔

 ایرانی صدر نے شنگھائی تعاون تنظیم کے پچھلے سربراہی اجلاس کے دوران اس بات پر زور دیا تھا کہ ایران کی اہم جغرافیائی اور اسٹریٹجک پوزیشن جو معدنیات اور توانائی کے وسائل سے بھر پور ہیں، کے پیش نظر وہ شانگھائی تعاون تنظیم کے سرمایہ کاروں اور تاجروں کو اقتصادی شعبوں میں فروغ سے متعلق بہت زیادہ مواقع کی فراہمی کرسکتا ہے۔

اب ماسکو کی میزبانی میں شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ کی کونسل کا اجلاس ایک ایسا وقت منعقد ہو رہا ہے جب اسلامی جمہوریہ ایران نے ایس سی او کے رکن ممالک کی کمپنیوں اور حکومتوں کو ایران میں اقتصادی سرگرمیوں کیلئے سہولیات فراہم کرنے پر آمادگی کا اظہار کرلیا ہے۔

شنگھائی تعاون تنظیم میں ایران کی مستقل رکنیت کے معاملے کا ہمیشہ اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف امریکی جابرانہ پابندیوں کے سائے میں تعاقب کیا جاتا رہا ہے اور اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ امریکہ نے اپنے سیاسی دباؤ کے ذریعے شنگھائی تعاون تنظیم کے ممبروں سمیت مختلف ممالک کے ساتھ ایران کے کثیرالجہتی تعاون کی راہ میں ہمیشہ رکاوٹیں حائل کرنے کی کوشش کی ہے۔

اور اب موجودہ بین الاقوامی صورتحال میں جو امریکہ اور مختلف ممالک بشمول چین اور روس کے درمیان مختلف موضوعات پر اختلافات میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے تو بیجنگ  اور ماسکو کے فعال کردار کی صورت میں ایران کئی سالوں انتظار کے بعد اس اہم عاقائی تنظیم کا مستقل رکن بن جائے گا۔

ماسکو کے حکام نے ایران کو دنیا میں الگ کرنے سے متعلق امریکی درخواست کی بارہا مسترد کردیا ہے اور شنگھائی تعاون تنظیم میں ایران کی مستقل رکنیت کی حمایت بھی کی ہے اور اس بات کی یققین دہانی کرائی ہے کہ ایران کی یہ درخواست پوری ہوگی اور اب ایک ایسے وقت جب روس شنگھائی تعاون تنظیم کی قیادت کر رہی ہے تو اس تنظیم میں ایران کی مستقل رکنیت سے متعلق قیاس آرائیوں کو تقویت ملی ہے۔

اگرچہ چینی حکام نے اس تنظیم میں ایران کی مستقل رکنیت کیلئے تمام ممبرز کی رضامندی کا شرط لگایا ہے تا ہم ایسا لگتا ہے کہ ایران اور چین کے درمیان 25 سالہ جامع اسٹریٹجک تعاون سمیت دونوں ملکوں کے حکام کیجانب سے تمام شعبوں میں تعلقات کے فروغ کے عزم سے شنگھائی تعاون تنظیم میں ایران کی مستقل رکنیت کیلئے مناسب فضا اورپلٹ فارم کی فراہمی ہوگئی ہے۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
2 + 10 =