جوہری معاہدے میں کوئی ان کہی بات باقی نہیں رہ گئی ہے: ظریف

 اسٹاک ہوم، ارنا-  اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ ایران، جوہری معاہدے سے متعلق اپنے تمام وعدوں پر عمل کیا ہے لیکن ایسا لگتا ہے کہ دوسرے فریقین بعض مسائل کو ہمیں ڈکٹیٹ کرنا چاہتے ہیں جو واضح طور جوہری معاہدے میں طے پایا گیا ہے۔

 ان خیالات کا اظہار "محمد جواد ظریف" نے اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ میں خطاب کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ موجود صورتحال میں انسانی حقوق، بین الاقوامی حقوق کا سب سے اہم موضوع ہے اور سب کو بین الاقوامی حقوق کے ثمرات ملنے چاہیں اور اس سے مستثنی نہیں ہونا چاہئے۔

ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ افغانستان، شام اور یورپ کی تبدیلیوں سے سب متاثر ہوگئے ہیں اور یہ بات مختلف شعبوں میں بدامنی کی اہمیت کی نشاندہی کر رہی ہے اور اس سے یہ ظاہر ہوتی ہے کہ اجتماعیت ایک انتخاب نہیں بلکہ ضرورت ہے۔

ظریف نے مزید کہا کہ دنیا میں قیام امن و سلامتی کیلئے سارے ممالک کے درمیان تعاون ناگریز ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ سنہ 2016ء میں امریکہ کے اندر انقلاب وقوع پذیر ہوا ہے کیونکہ امریکی حکومت، بین الاقوامی حقوق پر پابندی کو اپنے لیئے ضروری نہیں سمجھتی ہے اور جان بولٹن جیسے افراد بین الاقوامی حقوق کو دوسروں پر ڈباؤ ڈالنے کیلئے استعمال کرتے ہیں۔

 ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ وہ جو دوسرے ممالک میں بدامنی پھیلانے کے ذریعے اپنے ملک میں قیام امن برقرار کرنا چاہتے ہیں کو غیر متوقع صورتحال کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور اس کی واضح مثال بھی امریکہ ہے جو بے پناہ فوجی فنڈز فراہم کرنے کی وجہ سے اپنے شہریوں کی سلامتی  کی فراہمی میں ناکام ہوگیا ہے۔

**9467
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
9 + 2 =