29 دسمبر، 2021 3:13 PM
Journalist ID: 2392
News Code: 84595078
T T
0 Persons
جوہری وفود کا ویانا مذاکرات کو جاری رکھنے پر زور

ویانا، ارنا – جبکہ مذاکراتی وفود نے حتمی نتیجہ تک بات چیت جاری رکھنے پر زور دیا ہے ویانا مذاکرات کے آٹھویں دور کا تیسرا دن جاری ہے ، کیونکہ جوہری معاہدے پر نظرثانی اور ایران کے خلاف امریکی پابندیاں ہٹانے کے حوالے سے کسی معاہدے تک پہنچنے کا امکان بڑھتا ہے۔

تفصیلات کے مطابق، تین یورپی ممالک کی طرف سے بعض متعصبانہ بیانات کے باوجود مذاکرات کا عمومی ماحول مثبت اور آگے بڑھ رہا ہے، کسی حتمی معاہدے تک پہنچنے کے امکانات نمایاں طور پر بڑھ گئے ہیں اور سینئر روسی مذاکرات کار کے مطابق بات چیت کی پیشرفت بلاشبہ ہے۔
ویانا میں روس کے چیف مذاکرات کار میخائل الیانوف نے گزشتہ روز فارن پالیسی کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا کہ سچ پوچھیں تو، میں اس مرحلے پر (معاہدے تک پہنچنے کے بارے میں) پر امید ہوں اور مجھے شک کرنے کی کوئی معقول وجہ نظر نہیں آتی۔
انہوں نے کہا کہ وہ اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتے مگر مجھے یقین ہے کہ امکانات بہت زیادہ ہیں کیونکہ کامیابی (مذاکرات) کی ایک اہم شرط ہے۔ ایران اور امریکہ سمیت تمام ممالک، تمام شرکاء جوہری معاہدے کو بحال کرنے کے خواہاں ہیں۔
انہوں نے مصنوعی ڈیڈ لائن لگانے پر امریکہ اور تین یورپی ممالک کو تنقید کا نشانہ بنایا کہا کہ یہ وقت ایران کی جوہری ترقی کے باوجود دھمکی دینے کا نہیں ہے، مغرب کی طرف سے عجلت کا احساس قدرے مبالغہ آمیز ہے، یہ ایک فوری معاملہ ہے، لیکن آئیے محتاط رہیں اور مصنوعی ڈیڈ لائن متعین نہ کریں۔
مغربی فریقین بجا طور پر جانتی ہیں کہ پابندیوں کا آلہ اپنا کردار کھو چکا ہے اور ایران اپنے غیر قانونی اقدامات کے خیموں کے پیچھے پہنچ چکا ہے۔ اس کے مطابق، وہ مذاکرات کی فوری ضرورت پر زور دیتے ہیں اور ایران پر دباؤ ڈالنے کے لیے مصنوعی ڈیڈ لائن مقرر کرتے ہیں۔
تاہم، اسلامی جمہوریہ ایران کا اصرار ہے کہ کسی دھوکہ دہی میں نہیں پھنسے گا اور اس نے مذاکرات میں ایک اچھے معاہدے تک پہنچنے کے لیے عملی طریقہ اختیار کیا ہے۔
مذاکرات کل جمعرات تک جاری رہیں گے اور نئے سال کی تعطیلات کی وجہ سے تین دن کے وقفے کے بعد پیر کو دوبارہ شروع ہوں گے۔ اس دور میں، وفود کسی معاہدے تک پہنچنے کے لیے نتائج پر مبنی مذاکراتی عمل کو تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہیں۔
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

متعلقہ خبریں

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha