جنرل باقری کا دورہ پاکستان؛ فوجی-دفاعی تعاون کی تقویت کا ایک نیا باب

اسلام آباد، ارنا- پاکستان چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی نے اسلامی جمہوریہ ایران کے مسلح افواج کے سربراہ کے حالیہ دورہ پاکستان کو دونوں ملکوں کے درمیان فوجی-دفاعی اور سلامتی کے میدان میں تعاون کی تقویت کا ایک نیا باب قرار دے دیا۔

پاکستانی فوج کے شعبے تعلقات عامہ کے مطابق، میجر جنرل "محمد باقری" اور جنرل "ندیم رضا" نے اپنی ملاقات میں باہمی دلچسبی امور سمیت دفاعی، سلامتی اور انسداد دہشتگردی کے شعبوں میں تعاون اور علاقائی صورتحال بالخصوص افغانستان کی تبدیلیوں پر تبادلہ خیال کیا۔

پاکستانی فوج کے بیان میں پاکستان چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کے مطابق کہا گیا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران اور پاکستان دوطرفہ فوجی اور اسٹریٹجک تعاون کے حصول کے لیے بہت سے علاقائی اور بین الاقوامی مسائل پر مشترکہ نقطہ نظر رکھتے ہیں۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج کے سربراہ کا دورہ پاکستان؛ دونوں برادر ممالک کے درمیان فوجی، دفاعی اور سیکورٹی تعلقات کو مضبوط بنانے کے ایک نئے مرحلے کا آغاز ہے۔

پاکستانی فوج کے شعبے تعلقات عامہ کے مطابق، ایران اور پاکستان کے اعلی فوجی حکام نے دونوں ممالک کے درمیان فوجی تعاون کی سطح اور دائرہ کار کو بڑھانے کے اقدامات کا جائزہ لیتے ہوئے ان تعلقات کو مزید گہرا کرنے پر زور دیا۔

دونوں فریقوں نے اس بات پر زور دیا کہ اسلامی جمہوریہ ایران اور پاکستان کی مشترکہ سرحدیں "امن اور دوستی کی سرحدیں" ہونی ہوں گی۔

پاکستانی فوج کے بیان میں میجر جنرل باقری ک مطابق کہا گیا ہے کہ سینئر ایرانی فوجی عہدیدار نے پاکستانی مسلح افواج کی پیشہ ورانہ مہارت اور دہشتگردی کے خلاف جنگ میں ان کی قربانیوں کی تعریف کی۔

واضح رہے کہ ایرانی مسلح افواج کے سربراہ نے اپنے حالیہ دورہ پاکستان کے دوسرے دن میں پاکستانی آرمی چیف، پاکستان چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی اور پاکستانی وزیر اعظم سے الگ الگ ملاقاتیں کی ہیں۔

ان ملاقاتوں میں دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی تازہ ترین صورتحال اور ان تعلقات کو فوجی، سلامتی اور اسٹرٹیجک میدان میں فروغ دینے کے طریقوں کا جائزہ لیا گیا۔

ان مذاکرات میں ایران اور پاکستان کی مشترکہ سرحدوں پر سیکورٹی کی ترقی، علاقائی امن و استحکام، عالم اسلام خصوصا افغانستان میں امن و سلامتی کی بحالی کے لیے اتفاق رائے کی ضرورت سے متعلق اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ افغانستان اور یمن سمیت اسلامی دنیا کے مسائل کے حل تلاش کرنے پر بھی زور دیا گیا۔

امریکہ اور صیہونی مداخلت کے نتیجے میں اسلامی ممالک کے درمیان چیلنجز کے ساتھ ساتھ حالیہ برسوں میں پھیلی گئی دہشت گردی بھی زیر بحث موضوعات میں سے تھے۔

 نیز اعلی ایرانی فوجی وفد نے دونوں ملکوں کے درمیان بے پناہ اقتصادی صلاحیتوں پر توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha