ایرانی کوو برکت ویکسین کی تکنیکی سائنس 100 فیصد ملکی ہے

تہران، ارنا- حضرت امام خمینی (رہ) کے ایگزیکٹو ہیڈ کوارٹر کے سربراہ نے کہا ہے کہ دسمبر تک ملک میں کورونا ویکسین کی مکمل فراہمی ہوگی۔

ان خیالات کا اظہار "محمد مخبر" نے آج بروز منگل کو برکت فارماسیوٹیکل ٹاؤن اور کوو برکت ویکسین کی صنعتی اور نیم صنعتی پیداوار لائنوں سے ایرانی اسپیکر کے دورے کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ملکی ضروریات کو پورا کرنے کے بعد ہم کوو برکت ویکسین کی برامدآت کریں گے؛ لیکن جب تک تمام شہریوں کی ویکسینیشن نہ ہو تو ہم کوئی بھی ویکسین کی برآمدات نہیں کرتے ہیں۔

مخبر نے کہا کہ ویکسین کی تیاری کے سلسلے میں ہم نے ملک کی اشرافیہ کی صلاحیت کو متحرک کیا اور 6 سمتوں سے ویکسین کی تیاری کے راستے پر چل نکلا۔

انہوں نے کہا کہ  م نے غیر فعال وائرس، ڈی این اے، ایم آر این اے، صابونائٹ وغیرہ کے طریقوں پر عمل کیا اور ہم نے پہلی بار میسنچیمل سیل نامی ایک مخصوص طریقہ تیار کار کی پیروی کی اور اسے لیبارٹری میں تیار کیا۔

دراین اثنا برکت فارماسیوٹیکل گروپ کے سربراہ "حمیدرضا جمشیدی" نے بھی بتایا کہ ملک کی 12 فیصد ادویات برکت فارماسیوٹیکل گروپ میں تیار کی جاتی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ برکت فارماسیوٹیکل ٹاؤن خطے کا سب سے بڑا فارماسیوٹیکل ٹاؤن ہے جو انسداد کینسر ادویات کی تیاری کا سب سے بڑا مرکز ہے اور اس ٹاؤن کا سب سے بڑا بائیوٹیکنالوجی پروجیکٹ ہے جس میں 4 ہزار افراد کیلئے روزگار کی فراہمی کی گئی ہے۔

جمشیدی نے کہا کہ کورونا ویکسین تیار کرنے کے چھ طریقے ہیں؛ ان راستوں میں سے جانوروں کی جانچ پانچ طریقوں سے کی گئی ہے؛ ایک طریقہ جو برکت ویکسین اس سے تیار کی گئی ہے اور اب انسانی جانچ کے مطالعہ کے مراحل میں داخل ہوگئی ہے اور یہ ظاہر کیا گیا ہے کہ اس ویکسین کے انجیکشن لگانے سے افراد میں نوترالیزان انٹی بادی (جو کورنا کی خصوصی انٹی بادی ہے) 8۔93 فیصد کا اضافہ ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایرانی کوو برکت ویکسین کی تکنیکی سائنس 100 فیصد ملکی ہے اور ابتدا میں ہم نے فی لیٹر وائرس کی 30 خوراکیں تیار کی تھیں، لیکن اب ہم فی لیٹر ویکسین کی تین سے چار ہزار خوراکیں تیار کرتے ہیں، یہ ایک جدید تحقیقی کام کا نتیجہ ہے۔

جمشیدی نے کہا کہ آج ہم مشرقی اور مغربی ایشیاء میں ماسک تیار کرنے والے سب سے بڑے صنعت کاروں میں سے ایک ہیں ہم ویکسین تیار کرنے والے ہیں اور کورونا ادویات برآمد کرسکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے پابندیوں کے عروج پر اور کم وقت میں دنیا کے چھٹے ملک کی حیثیت سے دنیا میں جدید ترین ٹیکنالوجی کیساتھ ویکسین تیار کیں۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha