تہران- بیجنگ جامع تعاون منصوبہ علاقائی تجارت اور سلامتی کا ضامن ہے

اسلام آباد، ارنا- غیر ملکی تجزیہ نگاروں نے ایران اور چین کے تعاون کا جائزہ سے متعلق منعقدہ بین الاقوامی وبینار میں تہران اور بیجنگ کے درمیان جامع تعاون دستاویز پر دستخط کو علاقے میں واشنگٹن کے اثر و رسوخ کو کم کرنے کیلئے ایک اسٹرٹیجک اقدام قرار دے کر کہا کہ ان دونوں ممالک کا تعاون، علاقائی سلامتی اور تجارت کا ضامن ہے۔

تفصیلات کے مطابق، "ایران اور چین کے نئے تعاون کے فریم ورک کے اندر علاقائی سلامتی اور معاشی نمو کا ویژن" کے عنوان کے تحت منعقدہ وبینار میں ایران، چین، پاکستان اور برطانیہ کے ماہرین اور تجزیہ نگاروں نے حصہ لیا تھا۔

اس ورچوئل اجلاس کا پاکستان ڈویلپمنٹ اینڈ کمیونیکیشن ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے زیر اہتمام میں انعقاد کیا گیا اور اس میں حصہ لینے والے مقررین نے ایران اور چین کے درمیان جامع تعاون منصوبے پر دستخط کو علاقائی تعلقات کی تقویت اور خطے اور مشرق وسطی میں چینی اثر و رسوخ میں اضافے کیلئے ایک اہم موڑ قرار دے دیا۔

انہوں نے کہا کہ ایران کیساتھ تعاون کے جامع دستاویز سے نہ صرف تجارت اور معاشی نمو کیلئے چینی مارکیٹ میں وسعت آئے گی؛ بلکہ مشرق وسطی اور شمالی افریقہ کے خطے میں طاقت کا توازن برقرار رہے گا۔

ان کا عقیدہ ہے کہ چین کیساتھ اربوں ڈالر کی شراکت داری، ایران کو سخت پابندیوں کی صورتحال میں، چین اور مشرق وسطی کیساتھ اپنے تجارتی تعلقات کو مستحکم کرنے میں مدد فراہم کرے گی۔

اس موقع پر تہران انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل اسٹڈیز اینڈ ریسرچ کے ماہر ڈاکٹر "احسان صادقی چیمہ" نے کہا کہ ایران چین اسٹریٹجک دستاویز پر دستخط، 50 سالہ باہمی تعلقات کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک اہم موڑ اور ایک نیا باب ہے۔

انہوں نے مزید کہا یہ ایک دستاویز ہے اور معاہدہ نہیں ہے اور یہ ایران اور چین کے مابین تعلقات کے بہتر مستقبل کے ڈیزائن کے لئے ایک روڈ میپ ہے۔

اس کے علاوہ سینئر اسٹریٹجک تجزیہ کار اور پاک فوج انٹیلیجنس اینڈ سکیورٹی ایجنسی کے سابق سربراہ جنرل "اسد درانی" نے کہا کہ چین ایران تعاون دستاویز، اسٹریٹجک اقدامات میں سے ایک ہے جو امریکی اثر و رسوخ کو کم کرنے اور خطے میں چین کے تجارتی اور اسٹریٹجک تعاون میں اضافہ کرکے خطے پر نمایاں اثر ڈالے گا۔

در این اثنا چینگدو ورلڈ افیئر ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کی خاتون ممبر ڈاکٹر "ڈن جی" نے کہا کہ ایران چین اسٹریٹجک دستاویز، گذشتہ چند دہائیوں سے دونوں ممالک کے مابین دوستانہ تعلقات کا ناگزیر نتیجہ ہے ۔

انہوں نے مزید کہا کہ چین بین الاقوامی اداکاروں کے دباؤ کا شکار نہیں ہوسکتا، لیکن وہ اپنے مقاصد کے لئے مسلسل کوشش کر رہا ہے، ایران چین کا ایک پرانا دوست ہے جس پر بلا وجہ دباؤ ڈالا گیا ہے؛ لہذا چین ایران کی حمایت کا سلسلہ جاری رکھے گا۔

برطانیہ میں مقیم محققین ڈاکٹر "ہنری ٹل مین" اور ڈاکٹر "نجم عباس" نے بھی کہا کہ بیجنگ نے نہ صرف ہائیڈرو کاربن تک متبادل رسائی حاصل کی ہے، بلکہ اس نے پورے بحر ہند میں اپنے اثر و رسوخ کو مزید تقویت بخشی ہے۔

ان کے بقول، چین نے گزشتہ دو دہائیوں کے دوران، ایران کے ساتھ اپنے دوستانہ دوطرفہ تعلقات کو مستحکم کیا ہے اور اس عرصے کے دوران دونوں ممالک کے مابین 18 بلین سے 20 ارب ڈالر کے مالیت پر مشتمل 17 سے زیادہ معاہدے طے پائے گئے ہیں۔

واضح رہے کہ اقوام متحدہ کی جانب سے کئی پابندیوں کا سامنا کرنے والے چین اور ایران نے ایک دوسرے سے تعاون کے 25 سالہ اسٹریٹیجک دستاویز پر دستخط کردیئے ہیں۔

تہران میں منعقدہ ایک تقریب میں 25 سالہ تعاون کے اس دستاویز پر دستخط، ایران کے وزیر خارجہ "محمد جواد ظریف" اور چین کے وزیر خارجہ "وانگ ای" نے 27 مارچ کو کیئے؛ تاہم یہ معاہدہ اس وقت سے جاری ہے جب چین کے صدر 2016ء میں ایران کے دورے پر آئے تھے۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha