پاکستان میں شہید سلیمانی کی شخصیت پر گول میز کانفرنس کا انعقاد

اسلام آباد، ارنا - جنرل قاسم سلیمانی اور ان کے ساتھیوں کی شہادت کی پہلی برسی کے موقع پر پاکستان میں ایک گول میز کانفرنس کا انعقاد کیا گیا جس میں اسلامی جمہوریہ ایران کے سفیر ، سیاسی ، مذہبی اور ثقافتی شخصیات شریک تھے۔

اس گول میز کے دوران ، قدس فورس کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل قاسم سلیمانی کی شخصیت کی خصوصیات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
اس مباحثے کا انعقاد راولپنڈی میں ایرانی سفارتخانے کے ثقافتی مرکز ، شیعہ علما کونسل اور امت واحدہ نے مشترکہ طور پر کیا تھا۔
اس اجلاس میں پاکستان میں تعینات ایران کے سفیر "سید محمد علی حسینی" ، ایرانی ثقافتی اتاشی احسان خزاعی ، کچھ مذہبی ، سیاسی شخصیات ، پاکستان کے تحقیقاتی اور تعلیمی اداروں کے سربراہان شریک تھے۔
دوسرے شرکاء نے آن لائن طور پر اجلاس میں شرکت کی اور جنرل قاسم سلیمانی کی شہادت کی پہلی برسی کے موقع پر اسلامی امت ، مزاحمتی جنگجوؤں کے ساتھ ساتھ اسلامی جمہوریہ ایران کی قوم اور حکومت سے تعزیت کے پیغام بھیجا۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ خطے میں سلامتی اور امن پیدا کرنے، شام اور عراق سے داعش دہشتگردوں کو ختم کرنے میں اس عظیم شہید کی انتھک کوششوں کو فراموش نہیں کیا جاسکتا۔
حسینی نے اس بات پر زور دیا کہ خطے میں داعش سمیت تکفیری دہشتگردوں کے بدنما سایہ کا خاتمہ ، خطے کے ممالک اور انسانیت کے لئے جنرل قاسم سلیمانی کی خدمات تھی۔
انہوں نے مزید کہا کہ جنرل سلیمانی امت اسلامیہ کے وقار ، عالم اسلام کے اتحاد ، صیہونی اور اسلام دشمن طاقتوں کے خلاف لڑائی پر یقین رکھتے ہیں اور مشرق وسطی اور مغربی ایشیاء میں امریکہ کے مذموم سازشوں کو ناکام بنانے میں ایک اہم ترین شخصیت تھے۔
ایرانی ثقافتی اتاشی نے کہا کہ اسلامی دنیا کے معزز کمانڈر کی شہادت نے نہ صرف اسلامی جمہوریہ ایران کے عوام بلکہ تمام مظلوم اور آزادی پسندوں کو متاثر کیا۔
احسان خزاعی نے مزید کہا کہ اس طرح کے اجلاسوں کے انعقاد سے مزاحمت اور بہادری کے اس ماڈل کے طرز زندگی اور طرز عمل کے پوشیدہ زاویوں کا ایک کونا متعارف ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستانی عوام نے پچھلے سال لیفٹیننٹ جنرل قاسم سلیمانی کی بھی تعریف کی۔
خزاعی نے کہا کہ شہید سلیمانی نہ صرف ایک مکمل فوجی ، سلامتی اور دشمنان اسلام کے خلاف میدان جنگ میں ایک حقیقی جنگجو تھے بلکہ انہیں اسلام کی روحانیت اور اخلاقیات پر بھی معلومات تھی۔
منعقدہ اجلاس میں موجود پاکستانی شخصیات کے علاوہ مجازی مہمانوں نے مزاحمت کے شہدا کو خراج تحسین پیش کیا اور عالم اسلام کے وقار کے فروغ میں جنرل قاسم سلیمانی کی قربانیوں کی تعریف کی۔
واضح رہے کہ 3 جنوری 2020 میں عراق کے دارالحکومت بغداد کے ایئرپورٹ پر امریکہ کی جانب سے راکٹ حملے کیے گئے جس کے نتیجے میں پاسداران انقلاب کے کمانڈر قدس جنرل قاسم سلیمانی سمیت عراق کی عوامی رضاکار فورس الحشد الشعبی کے ڈپٹی کمانڈر "ابومهدی المهندس" شہید ہوگئے۔
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

متعلقہ خبریں

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha