ایرانی پالیسیوں کو امریکی اندرونی معاملات سے جوڑا نہیں کیا گیا ہے

تہران، ارنا- ایرانی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ امریکہ، اسلامی انقلاب کے آغاز ہی سے ایران کیخلاف بہت کچھ کرنا چاہتا تھا لیکن وہ کامیاب نہیں ہوگیا؛ غلط فہمیوں اور غلط حساب کتاب کے خطرناک نتائج ہیں اور ہم نے امریکیوں کو متنبہ کیا ہے کہ ایران سے متعلق غلط فہمیاں دلدلوں کی ماں ہیں۔

ان خیالات کا اظہار "سعید خطیب زادہ" نے ارنا نمائندے کیساتھ خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے کیا۔

انہوں نے امریکہ کیجانب سے ایران کیخلاف اقوام متحدہ کی پابندیوں کے از سر نو نفاذ کرنے کا دعوی اور امریکہ کے اس اقدام سے عالمی برادری کی مخالفت سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ کی صدارت کے دوران امریکہ نے جو اقدامات کیے ہیں ان سے امریکہ کیخلاف بین الاقوامی نظام متحد ہوگیا ہے۔

خطیب زادہ نے کہا کہ مغرب نے اپنے آپ کو کائنات کا مرکز اور باقی دنیا کو پردیسیوں کے طور پر دیکھا لیکن ٹرمپ نے مغربی دنیا کی نچلی تہوں میں موجود بحران کو بے نقاب کرتے ہوئے تنازعہ کو مرکز- ارگرد سے مرکز- مرکز تک منتقل کردیا اور تمام مغربی نظریات کو اس واضح حقیقت سے روشناس کردیا۔

انہوں نے کہا کہ وائٹ ​​ہاؤس میں اب کوئی ہے جس نے اپنا روایتی اتحاد یعنی یورپ کو امریکہ کا حریف قرار دے دیا ہے اور وہ سب سے اہم ٹرانزلانٹک اتحاد یعنی نیٹو کو نشانہ بناتا ہے اور دھمکی دیتا ہے اور لبرل ممالک کے ساتھ معاہدوں سے دستبردار ہوجاتا ہے۔

***یورپین ابھی بھی ٹرمپ سے متعلق میں الجھن میں ہیں

انہوں نے کہا کہ یورپی ممالک ابھی بھی ٹرمپ سے متعلق الجھن میں ہیں اور ٹرمپ کے دور صدارت کے اثرات اور صدمے آنے والے برسوں تک بین الاقوامی نظام میں موجود رہیں گے۔

خطیب زادہ نے کہا کہ ٹرمپ کی صدارت کے پہلے دو سال تک، یورپی ممالک نہیں جانتے تھے کہ وہ امریکہ کے سامنے کونسی پالیسی اپنائیں لیکن اب وہ ٹرمپ کو موجودہ عالمی نظام اور مغربی دنیا کیلئے خطرہ سمجھتے ہیں۔

*** ایران کی پالیسی وائٹ ہاوس میں بر سر کار افراد سے جوڑا نہیں ہے

انہوں نے کہا کہ جوہری معاہدہ ایک ایسا معاہدہ ہے جس پر کچھ لوگوں نے تنقید کی ہے اور اب وہ امریکی دباؤ اور دوہری پابندیوں کی وجہ سے ایک مثالی حالت میں نہیں ہے لیکن پھر بھی وہ امریکہ کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں الگ تھلگ کرنے اور اسے شکستوں کا سامنا کرنے میں بہت کامیاب تھا۔

خطیب زادہ نے کہا کہ 3 نومبر میں امریکہ میں صدراتی انتخابات، امریکی اندورنی معاملہ ہے اور ایرانی کی پالیسیوں کو وائٹ ہاوس میں بر سرکار آنے والے افراد سے جوڑا نہیں کیا گیا ہے۔

*** امریکہ نے دنیا پر اپنا تسلط کھو بیٹھا ہے

انہوں نے ایران کیجانب سے اپنے جوہری وعدوں میں کمی لانے کو یورپ کی بے بسی کے ردعمل میں قرار دے دیا اور کہا کہ چونکہ یورپی فریقین نے جوہری معاہدے سے متعلق اپنے وعدوں کا پورا نہیں کیا تو ایران اپنے کیے گئے وعدوں کے کچھ حصے سے دستبردار ہوگئے۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ غیر قانونی طور پر جوہری معاہدے سے علیحدہ ہوگیا اور ہم امریکہ کیجانب سے ایران کیخلاف پابندیوں کا از سر نو نفاذ اور زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالنے کے اقدامات کو جوہری معاہدے سے باہر اور غیرقانونی سمجھتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ تو بہت دور کی بات ہے کہ ٹرمپ دوسرے ملکوں کو ایران کیخلاف اقدامات اٹھانے کیلئے اکسا سکیں کیونکہ امریکہ نے اب دنیا پر اپنا تسلط کھو بیٹھا ہے؛ اب ہم دنیا کی ایک ایسی تبدیلی میں ہیں جہاں ایران جیسی ابھرتی طاقتیں ابھری ہیں اور امریکہ انہیں ابھرنے سے روکنے کی تمام کوششیں کر ہا ہے۔

*** ایران سے متعلق غلط فہمیاں دلدلوں کی ماں ہیں

 ایرانی ترجمان نے کہا کہ امریکہ، اسلامی انقلاب کے آغاز ہی سے ایران کیخلاف بہت کچھ کرنا چاہتا تھا لیکن وہ کامیاب نہیں ہوگیا؛ غلط فہمیوں اور غلط حساب کتاب کے خطرناک نتائج ہیں اور ہم نے امریکیوں کو متنبہ کیا ہے کہ ایران سے متعلق غلط فہمیاں دلدلوں کی ماں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ ہمارا دشمن ہے، ہمارے استاد نہیں اور ہم اپنا راستہ آزادانہ طور پر اور اپنے قومی مفادات پر مبنی منتخب کرتے ہیں؛ امریکہ کی عظیم غلطیوں کی وجہ سے وہ خطے میں شکست کھا چکا ہے۔

*** صہیونی ریاست اپنے نچلے ترین مقام پر ہے

انہوں نے کہا کہ یروشلم میں قابض حکومت اپنے نچلے ترین مقام پر ہے اور وہ تباہ کن صورتحال میں ہے؛ ان کا وزیر اعظم بدعنوانی میں ڈوبا ہوا ہے ان کو بہت گہرے اور معاشی اور معاشرتی دباؤ کا سامنا ہے اور وہ پچھلے 70 سالوں کی طرح بین الاقوامی برادری کو جھوٹ اور فریب کیساتھ دھوکہ نہیں دے سکتا۔

*** ٹرمپ کے سوا کسی نے صہیونیوں سے تعلقات کو معمول پر لانے پر یقین نہیں کیا ہے

خطیب زادہ نے عربی ممالک اور صہیونی ریاست سے تعلقات کو معمول پر لانے کی امریکی کوششوں سے متعلق کہا کہ خارجہ پالیسی میں ٹرمپ انتظامیہ ایک ناکام انتظامیہ ہے؛ انہوں نے کسی بھی شعبے میں کوئی پیشرفت نہیں کی خواہ بین الاقوامی فورم یا تنظیموں میں ہو، بین السطور تعلقات ہو یا مشرق بعید یا مغربی ایشیاء کے امور میں؛ لہذا وہ جعلی کارناموں کی تلاش میں ہے۔

*** صیہونی ٹرمپ کو ناقابل واپسی راستے کی سنہری کھڑکی کے طور پر دیکھتے ہیں

انہوں نے کہا کہ کچھ عرب ممالک اور صہیونی ریاست کے مابین تعلقات کے قیام در اصل برسوں سے خفیہ طور پر موجود تعلقات کے انکشاف کے سوا کچھ نہیں ہے۔

خطیب زادہ نے کہا کہ مشرق وسطی میں امریکی پالیسی کے دو ستون ہیں؛ پہلا ایران کی مخالف اور دوسرا  صہیونی ریاست کی حمایت؛ یہ دونوں ستون ٹرمپ انتظامیہ میں عروج پر پہنچ گئے؛ وہ ایران کیخلاف جنون میں مبتلا ہوچکے ہیں اور صہیونی ریاست کے معاملے میں وہ قابض حکومت کی غیر یقینی طور پر حمایت کر رہے ہیں۔

*** امریکی حکام ہر وقت ایرانی حکام سے تصویر کھینچنا چاہتے ہیں

انہوں نے امریکہ کیجانب سے ایران سے مذاکرات کیلئے کوئی پیغام بھیجنے کے سوال کے جواب میں کہا کہ وہ ہر وقت ایرانی حکام سے فوٹو کھینچنا چاہتے تھے اور یہ دکھاوے کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔

 خطیب زادہ نے کہا کہ امریکی ایران کے خلاف زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہونے میں شکست کھا چکی ہے لہذا وہ نئے راستے ڈھونڈنے جا رہا ہے۔

 انہوں نے کہا مذاکرات کیلئے پیغام بھیجنے کی ضروت نہیں ہے ہمارا موقف واضح ہے امریکہ، ایران کیخلاف اپنے تباہ کن اقدامات کا ازالہ کرے، ایرانی عوام کا احترام کرے اور ایران کیخلاف معاشی دہشتگردی کو روک دے۔

***امریکہ نے سلامتی کونسل میں شکست کھانے کو برداشت نہیں کیا

انہوں نے امریکہ کیجانب سے ایران کیخلاف اسنیپ بیک میکنزم کے نفاذ سے متعلق کہا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اکثر ممبران نے امریکہ کی اس درخواست کا مسترد کردیا اور امریکہ نے اس شکست کو برداشت نہیں کرسکا اور اب واشنگٹن کیجانب سے ایران کیخلاف پابندیوں کے از سر نو نفاذ کی کوششیں ایران کے سامنے اس کی بے بسی کی علامت ہے۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
5 + 0 =