ایرانی طیارے کی دھمکی امریکہ اور اسرائیل کے درمیان مشترکہ کھیل ہے: پاکستان

اسلام آباد، ارنا - خاتون پاکستانی وزیر برائے انسانی حقوق نے کہا ہے کہ ایرانی مسافر بردار طیارے کی دھمکی امریکہ اور ناجائز صہیونی ریاست کے درمیان مشترکہ کھیل ہے۔

یہ بات "شیرین مزاری" نے بدھ کے روز اپنے ٹوئٹر پیج میں کہی۔
اس موقع پر انہوں نے ایرانی ایئر لائن ماہان ایئر کی پرواز پر امریکی جنگی طیاروں کے حملے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام امریکہ اور ناجائز صہیونی ریاست کا مشترکہ خطرناک کھیل ہے جنہوں نے جنگ کو بہانہ بنا کر خارجہ پالیسی کے بحران میں حریف سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے کے راستے کے طور پر دیکھا۔
مزاری نے کہا کہ یہ اقدام مشرق وسطی میں آیا ہے ، جو پہلے ہی عدم استحکام کا چیلنج درپیش ہے۔
 ایرانی ایئر لائن ماہان ایئر کی پرواز نمبر ’’گیارہ باون‘‘ جمعرات کی شام، تہران کے امام خمینی ایئر پورٹ سے بیروت کے لیے روانہ ہوئی تھی۔ ماہان ایئر کی مذکورہ پرواز بین الاقوامی فضائی حدود میں سفر کرتے ہوئے شامی حدود میں داخل ہوئی جہاں دو امریکی جنگی ایف۔15 طیاروں نے اچانک اس کا راستہ روکنے کی خطرناک طریقے سے کوشش کی تاہم ایرانی پائلٹ نے ہوشیاری کا مظاہرہ کرتے ہوئے طیارے کی اونچائی کم کی اور اس نے جہاز کو بڑے حادثے سے بچا لیا۔ مگر پائلٹ کے اس ہنگامی عمل کے سبب طیارے کو غیر معمولی جھٹکے لگے اور نتیجے میں متعدد عملے اور مسافر زخمی ہوئے۔
ماہان ایئر لائن کی پرواز نے سیکورٹی کے حوالے سے اطمینان حاصل ہوجانے کے بعد اپنا سفر جاری رکھا اور بیروت ایئر پورٹ پر مسافروں کو اتارنے کے بعد جمعے کی صبح وہ تہران کے امام خمینی انٹرنیشنل ایئر پورٹ واپس پہنچ گئی۔
قابل ذکر ہے ایرانی ایوی ایشن تنظیم نے گزشتہ روز ایرانی مسافر بردار طیارے پر امریکی لڑاکا طیاروں کی جارحیت پر آئی سے اے او کا احتجاج کیا۔
اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل مندوب نے بھی اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل کو لکھے گئے خط میں ایرانی مسافر بردار طیارے پر امریکی دہمکی کیلیے جلد ہی اپنے احتجاج کا اعلان کریں گے۔
یاد رہے کہ سابق پاکستانی فضائیہ کے ڈپٹی کمانڈر نے گزشتہ ہفتے ارنا نیوز ایجنسی کے ساتھ گفتگو کے دوران دوسرے ممالک کے خلاف مغربی طاقتوں سمیت واشنگٹن کے من مانی کاروائیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی مسافر بردار طیارے پر امریکی جنگی طیاروں کی دھمکی ایک ناقابل قبول اقدام ہے۔
قیصر حسین نے اس بات پر زور دیا کہ امریکہ ک اس غلطی اقدام امریکی افواج کی جانب سے شام کی سرزمین سے غلط فائدہ اٹھانے کی علامت ہے۔
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

متعلقہ خبریں

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
9 + 4 =