جنرل سلیمانی کا بزدلانہ قتل اقوام متحدہ کے چارٹر کی واضح خلاف ورزی ہے

تہران، ارنا - ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ جنرل سلیمانی کا قتل اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

یہ بات "سید عباس موسوی" نے جمعرات کے روز اپنے ٹوئٹر پیج میں کہی۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے خطے کے انسداد دہشت گردی کے ہیرو جنرل سلیمانی کا بزدلانہ قتل" ایک من مانی قتل "تھا اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی واضح خلاف ورزی تھی۔
موسوی نے کہا کہ امریکہ اس مجرمانہ فعل کا ذمہ دار ہے اور اقوام متحدہ کو زبانی طورپر حملہ کرنے کے ساتھ وائٹ واش نہیں کرسکتا۔
انہوں نے کہا کہ ہم نہ صرف کبھی بھی فراموش نہیں کریں گے بلکہ کبھی معاف نہیں کریں گے۔
موسوی نے یہ ٹویٹ ایسے وقت جاری کیا جب جمعرات کے روز جنیوا میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 44 ویں اجلاس میں سپاہ پاسداران کی قدس فورس کے کمانڈر جنرل قاسم سلیمانی کی شہادت سمیت حکومتوں کے صوابدیدی اقدامات کی مذمت کی گئی۔ .
یہ بات قابل ذکر ہے کہ 3 جنوری کو عراق کے دارالحکومت بغداد کے ایئرپورٹ پر امریکہ کی جانب سے راکٹ حملے کیے گئے جس کے نتیجے میں پاسداران انقلاب  کے کمانڈر قدس جنرل قاسم سلیمانی سمیت عراق کی عوامی رضاکار فورس الحشد الشعبی کے ڈپٹی کمانڈر "ابومهدی المهندس" شہید ہوگئے۔
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
1 + 2 =