اقوام متحدہ کا اجلاس امریکہ کیلئے ایک نئی شکست تھا: ایرانی صدر

تہران، ارنا - ایرانی صدر نے اس بات پر زور دیا کہ اقوام متحدہ کے کل کا اجلاس امریکہ کی نئی سیاسی ناکامی کا منظر تھا۔

یہ بات ڈاکٹر حسن روحانی نے آج بروز بدھ اپنی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

انہوں نے کہا کہ 3جولائی 1988 کو امریکی میزائل کے ذریعے ایرانی ایئربس طیارے کو نشانہ بنانے کی  32 ویں برسی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ دن ہماری تاریخ میں ایک بڑی جنایت تھی۔

3جولائی 1988 میں خلیج فارس میں اسلامی جمہوریہ ایران کے مسافر طیارے کو امریکی بحری بیڑے نے میزائل سے نشانہ بنا کرمار گرایا تھا جس کے باعث اس میں سوار290 نہتے ایرانی شہری شہید ہوگئے۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ نے نہ صرف اس واقعے  کے لئے معافی نہیں مانگی اور اس حملے میں ملوث عنصر کی مذمت نہیں کی بلکہ اس کو بھی تمغہ دے دیا۔

انہوں نے گزشتہ روز اقوام متحدا کے اجلاس کو امریکی نئی سیاسی ناکامی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ممکن ہے کہ امریکہ اپنے حساب کتاب میں اس بات کو بتائے کہ ہم نے اقتصادی شعبے میں کامیابی حاصل کی ہے اور ایرانی عوام پر دباؤ ڈالا ہے ، لیکن قانونی ، سیاسی اور اخلاقی طور پر وہ کئی بار ناکام ہوچکے ہیں۔

روحانی نے کہا کہ پچھلے ساڑھے تین سالوں میں جب سے امریکہ میں نیا صدر ٹرمپ اقتدار میں آیا ہے ، ہم کو اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف لاقانونیت ، غیر قانونی اور غیر انسانی سلوک کا سامنا ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حالیہ ہفتوں میں امریکیوں کو دو بڑے سیاسی دو بڑے دھچکے لگے ہیں، ایک ایران کے خلاف قرارداد کے مسودے کے خلاف  ہے جس کی آج تک سلامتی کونسل میں سرگرم تمام ممالک نے مخالفت کی ہے۔

روحانی نے کہا کہ پچھلے ساڑھے تین سالوں میں امریکہ نے جوہری معاہدے کو شکست دینے کی کوشش کی ہے لیکن گزشتہ روز اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی نشست میں امریکہ کے سوا اس تنظیم کے 14 اور اراکین نے جوہری معاہدے اور قرارداد 2231 سے حمایت کی۔

واضح رہے کہ ایران جوہری معاہدے کے تحت قرار داد 2231 کے نفاذ سے متعلق سربراہ اقوام متحدہ کی رپورٹ کا جائزہ لینے کیلئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس کا گزشتہ رات آغاز کیا گیا۔

منعقدہ اس اجلاس جو دنیا میں کرونا وائرس کے پھیلاؤ کی وجہ سے آن لائن انعقاد کیا گیا، میں قرارداد نمبر 2231 کے نفاذ کی تازہ ترین صورتحال سے متعلق سربراہ اقوام متحدہ کی رپورٹ کو پڑھ کر سنایا گیا۔

منعقدہ اس اجلاس کے دوران اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے تمام اراکین نے اپنے اپنے نقطہ نظروں کا اظہار کیا۔

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
4 + 0 =