فردوسی؛ سرزمین ایران کے لازوال مہاکاوی شاعر

مشہد، ارنا- ایران میں 14 مئی کو نامور اور مایہ ناز شاعر "حکیم ابوالقاسم فردوسی" سے خراج عقیدت پیش کرنے کا دن رکھا گیا ہے؛ ایک ایسے شاعر جنہوں نے دنیائے شاعری میں بلند مرتبہ حاصل کیا اور ان کا شاہکار شاہنامہ بھی مہاکاوی ادب میں چمکتا رہتا ہے۔

ایک ایسے شاعر جن کا فارسی زبان کی بقاء میں اعلی کردار اور مقام کسی سے پوشیدہ نہیں اور اس نقطہ نظر سے دنیا میں تمام فارسی زبان بولنے والے اس مشہور شاعر کی کاوشوں اور جد وجہد کے مقروض ہیں۔

حکیم ابوالقاسم فردوسی سنہ 319 ہجری خورشیدی، صوبے خراسان کے علاقے توس میں واقع "پاژ" نامی گاؤں میں پیدا ہوگئے اور چوتھی صدی کے آخر میں یعنی تقریبا سنہ 379 ہجری خورشیدی اور 78 کی عمر میں اس دنیائے فانی سے کوچ کرکے چلے گئے اور آپ کو ان آبائی وطن میں سپرد خاک کیا گیا۔

فردوسی 30 سال کی عمر میں اپنے لازوال شاہکار شاہنامہ کو لکھنے کا آغاز کرنے لگے اور 70 سال کی عمر تک اس کی تالیف اور تدوین میں مصروف تھے۔

شاہنامہ کی کتاب 60 ہزار شعروں پر مشتمل ہیں اور اس میں تین اصلی حصے یعنی "دیومالائی، بہادری اور تاریخی" کی شاعری موجود ہیں؛ شاہنامہ کو تقریبا دنیا کی تمام زبانوں میں ترجمہ کیا گیا ہے اور دنیائے ادب کے بزرگ ادیبوں جیسے گوئٹے اور وکٹور ہیوگو نے اس کی بڑی تعریف کی ہے۔

فردوسی کا مقبرہ صوبے خراسان کے شہر توس میں واقع ہے اور ہرسالہ ایرانی ثقافت اور تاریخ سے دلچسبی رکھنے والے ملکی اور غیر ملکی سیاح اس علاقے کا رخ کرتے ہیں۔

حکیم ابوالقاسم فردوسی کے مقبرے کا سنگ بنیاد سنہ 1305 خورشیدی میں رکھا گیا ہے؛ فردوسی کے مقبرے کی تعمیر بہت سارے سیاحوں کیلئے انتہائی دلکش، حیرت انگیز اور شاندار ہے۔

 ہزاروں غیر ملکی سیاح ہرسالہ شہر مشہد کے قریب واقع فردوسی کے مقبرے کا دورہ کرتے ہیں۔

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
4 + 2 =