ایران اور عالمی جوہری ادارہ کے تعاون کا سلسلہ بدستور جاری ہے: آئی اے ای اے

لندن، ارنا- عالمی جوہری توانائی ادارہ کے سربراہ نے کہا ہے کہ جوہری معاہدے کی شفاف کارکردگی اوراس کے نفاذ کی نگرانی کیلئے ایران اور آئی  اے ای اے کے درمیان تعاون کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔

 ان خیالات کا اظہار "رافائل گروسی" نے ویانا میں جوہری معاہدے سے متعلق منعقدہ اجلاس کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ عالمی جوہری ادارہ، اس بین الاقوامی معاہدے سے متعلق ایران کی شفاف کارکردگی کی نگرانی کرتا رہتا ہے۔

عالمی جوہری ادارہ کے سربراہ نے کہا کہ اس تنظیم نے تین جگہوں پر ایران کی غیر اعلان شدہ جوہری سرگرمیوں اور اس سے متعلقہ مواد کے حوالے سے کچھ سوالات اٹھائے ہیں۔

انہوں نے اس بات کا دعوی کیا کہ ایران نے تین مقامات تک رسائی کی اجازت نہیں دی اور ایٹمی مواد سے متعلق آئی اے ای اے کے پوچھے گئے سوالات پر خاطر خواہ تعاون نہیں کیا۔

گروسی نے کہا کہ اس بات کا ان سوالات کے حل اور ایران جوہری سرگرمیوں کی کارکردگی سے متعلق رپورٹ پیش کرنے کیلئے آئی اے ای اے کی صلاحیت پر منفی اثر مرتب کیا ہے۔

انہوں نے ایران سے مطالبہ کیا کہ وہ ان تین جگہوں کی رسائی کیلئے عالمی جوہری معاہدے سے تعاون کرے۔

عالمی جوہری ادارے کے سربراہ نے ایران کے جوہری وعدوں میں کمی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایران نے 5 جنوری کو اعلان کیا ہے کہ اس کی جوہری سرگرمیوں کے نفاذ پر کوئی پابندی نہیں ہے۔

واضح رہے کہ عالمی جوہری ادارے نے 3 مارچ کو جوہری معاہدے کی کارگردگی سے متعلق اپنی تارہ ترین رپورٹ کو شائع کیا جس میں کہا گیا ہے کہ ایران نے تین مقامات تک رسائی کی اجازت نہیں دی اور ایٹمی مواد سے متعلق آئی اے ای اے کے پوچھے گئے سوالات پر خاطر خواہ تعاون نہیں کیا۔

جس کے بعد ویانا کی بین الاقوامی تنظیموں میں تعینات اسلامی جمہوریہ ایران کے مستقل مندوب نے آئی اے ای اے کی نئی رپورٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران، عالمی توانائی جوہری ادارے میں رونما ہونے والے ایک خطرناک اور غیر اصولی بدعت کو روکنے کی کوشش کر رہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ افسوس کی بات ہے کہ امریکہ اور ناجائز صہیونی ریاست ایک بار پھرعالمی ایٹمی ایجنسی کیخلاف اپنے آئینی فرائض کی ادائیگی کیلئے دباؤ ڈال کر ایٹمی ایجنسی اور ایران کے درمیان فعال اور تعمیری تعاون کی راہ میں رکاوٹیں حائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

غریب آبادی نے کہا کہ ایران، بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی میں رونما ہونے والے ایک خطرناک اور غیر اصولی بدعت کو روکنے کی کوشش کررہا ہے جو جعلی انٹلیجنس خدمات کو تسلیم کرنا چاہتی ہے۔

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
2 + 11 =