ایران کو انسداد منشیات میں بہت کم بین الاقوامی حمایت حاصل ہے

تہران، ارنا- ایرانی ادارہ برائے انسداد منشیات کے سربراہ نے کہا ہے کہ ایران کو منشیات کیخلاف جنگ میں بہت کم بین الاقوامی حمایت حاصل ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اسی راستے میں ہم کو مشکل صورتحال کا سامنا ہے کیونکہ ایک طرف منشیات اسمگلنگ اور دہشتگردانہ اقدامات کیخلاف مقابلہ کر رہے ہیں اور دوسری طرف ہیمں امریکی غیرقانونی اور یکطرفہ پابندیوں کا شکار ہے۔

ان خیالات کا اظہار "اسکندر مومنی" نے ویانا میں منشیات سے متعلق 63 ویں کمیشن کے اجلاس کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ویانا کے پچھلے سال سے اب تک منشیات کیخلاف جنگ میں اسلامی جمہوریہ ایران کے 300 اہلکار شہید اور زخمی ہوگئے ہیں اور اسی عرصے کے دوران ہم نے ایک ہزار ٹن سے زائد منشیات کو ضبط کرلیا ہے جو دنیا کی تاریخ میں ایک مثالی ہے۔

مومنی نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران، قومی قوانین میں بہتری اور ترمیم کرکے، قواعد و ضوابط کے نفاذ میں بہتری لانے اور ملک میں انسداد منشیات ایجنسیوں کی معیار کی صلاحیتوں کو مستحکم کرنے کے ذریعے منشیات کی اسمگلنگ کی روک تھام سمیت مجرموں اور منشیات کا استعمال کرنے والے افراد کی بحالی کیلئے مناسب فضا کو فراہم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ 2019 کے دوران اسلامی جمہوریہ ایران کے حساس اداروں کے اہلکاروں نے 2319 کامیاب آپریشنز کے ذریعے منشیات اسمگلنگ کی 1886 بین الاقوامی اورعلاقائی نیٹ ورکس کو پکڑ لینے سمیت 815 ٹن مختلف قسم کی منشیات کو ضبط کرلیا ہے اور ان کو منشیات کی غیرقانونی تجارتی سکل سے باہر کردیا ہے۔

 مومنی نے مزید کہا کہ یہ عالمی کامیابی، بین الاقوامی ممالک اور برادریوں کی مالی اور تکنیکی کی مدد کی وجہ سے نہیں بلکہ حقیقی اور ترقی یافتہ اسلامی اور انسانی تعلیمات سمیت اسلامی جمہوریہ ایران کی بین الاقوامی ذمہ داریوں کی پاسداری کے سبب حاصل ہوئی ہے۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ اس جلاس کی سائڈ لائن میں انسداد منشیات سے متعلق ایران کے 40 سالہ کامیابیوں کی نمائش کا افتتاح کیا گیا۔

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
1 + 2 =