ایرانی وزیرخارجہ نازنین زاغری کے کیس کا عدلیہ کے ذریعے تعاقب کریں گے: قاسمی

تہران، 11 دسمبر، ارنا - ترجمان ایرانی دفتر خارجہ نے برطانوی وزیرخارجہ کے حالیہ دورہ ایران اور اعلی قیادت کے ساتھ مختلف مسائل پر کئے جانے والے مذاکرات کے حوالے سے بتایا ہے کہ ایرانی وزیرخارجہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ایرانی خاتون 'نازنین زاغری' کے کیس کا عدلیہ کے ذریعے تعاقب کریں گے.

یہ بات 'بہرام قاسمی' نے پیر کے روز تہران میں اپنی ہفتہ وار پریس بریفنگ میں صحافیوں کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہی.

انہوں نے ایران اور برطانوی وزرائے خارجہ کے درمیان ہونے والے تفصیلی مذاکرات کے نتائج کے حوالے سے کہا کہ اس دورے کے موقع پر فریقین نے مختلف مسائل بشمول نازنین زاغری کے کیس کے حوالے سے بھی بات چیت کی.

انہوں نے کہا اس ملاقات کے دوران ایرانی وزیر خارجہ نے بتایا کہ نازنین زاغری دوہری شہریت کی حاصل ہیں مگر وہ ایرانی ہونے کے ناتے ملکی عدلیہ کی جانب سے وہ مجرم قرار پائی ہیں اور انہیں ایران میں ہی اپنی سزا کی مدت پوری کرنی ہوگی.

قاسمی نے کہا کہ اس ملاقات میں محمد جواد ظریف نے اپنے برطانوی ہم منصب کہا کہ بتایا کہ اس کیس کا تعلق ملکی عدالت سے ہے اس کے باوجود ہم انسانی ہمدری کی بنیاد پر ایرانی عدلیہ کے ذریعے اس کیس کا تعاقب کریں گے.

انہوں نے امریکی اور برطانیہ کی جانب سے ایران پر مظالم کے حوالے سے کہا کہ دوسرے ممالک کے ساتھ تعلقات کے قیام کے لیے ہماری خارجہ پالیسی کے فریم ورک اپنے ملک کے اصولوں پر مبنی ہے.

ایرانی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ بے شک دوسرے ممالک کے ساتھ باہمی تعلقات بڑہانے میں ہمارے اہم مطالبات میں سے ایک، باہمی احترام اور دیگر ممالک کے اندرونی معاملات میں عدم مداخلت کو یقینی بنانا ہے اور برطانیہ بھی اس قاعدے سے الگ اور مستثنی نہیں ہے.

انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ اقوام متحد کے خصوصی ورکنگ گروپوں کی جانب سے ایرانی میزائل کے ذریعے یمن سے سعودی عرب کے حملے کی جھوٹ خبر کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس خبر کی کوئی حیثیت نہیں ہے.

قاسمی نے یمن کے حوالے سے ایران کے واضح موقف کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یمن میں ہونے والے واقعات، اس ملک کے اندرونی معاملات سے متعلق ہے اور ہم صرف یمنی مظلوم عوام کی آواز دنیا تک پہنچنا چاہتے ہیں.

انہوں نے ایران اور سعودی عرب کے درمیان تیونس کے ثالثی کردار ادا کرنے کی خبر کے حوالے سے کہا کہ ایران، خطے میں دہشتگردی سے نمٹنا اور سلامتی، استحکام کے قیام کے لیے کسی بھی مثبت اور امن پسند اقدام کا خیر مقدم کر رہا ہے.

قاسمی نے صومالی قزاقوں کے ہاتھوں میں گرفتار ہونے والے ایرانی شہریوں کے کیس کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ایران نے اس قیدیوں کی رہائی کے لیے بہت کوششیں کی ہے لہذا امید ہے کہ ایرانی حکومت بالخصوص وزارت خارجہ ان قیدیوں کی آزادی اور واپسی کے لیے مزید کوشش کرے گی.

بورس جانسن ہفتہ کی رات سرکاری دورے پر ایران پہنچ گئے اور وہ اپنے ایرانی ہم منصب محمد جواد ظریف کے علاوہ صدر مملکت ڈاکٹر حسن روحانی، اعلی قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری ایڈمیرل علی شمخانی اور ایرانی اسپیکر علی لاریجانی کے ساتھ بھی ملاقاتیں کیں.

خیال رہے کہ نازنین زاغری ایک ایرانی نژاد برطانوی خاتون ہیں جنہوں نے ایک برطانوی شہری سے شادی کی ہیں، وہ اپریل 2016 کو ایران میں سیکورٹی مسائل کی بنا پر انھیں گرفتار کر لیا گیا.

9410*274**

ہميں اس ٹوئٹر لينک پر فالو کيجئے. IrnaUrdu@