ایران اور ترکمانستان نے ریل ٹرانزٹ کو دوگنا کرنے سے اتفاق کیا

تہران، ارنا- ایرانی وزیر برائے مواصلات اور شہری ترقی نے کہا کہ ایران اور ترکمانستان نے نقل و حمل، توانائی، اور تجارت کے شعبوں میں تعلقات کے فروع پر زور دیتے ہوئے دونوں ملکوں کے درمیان ریل ٹرانزٹ کو دوگنا کرنے سے اتفاق کیا۔

ان خیالات کا اظہار "رستم قاسمی" نے ایران اور ترکمانستان کے درمیان مشترکہ اقتصادی کمشین کے 16 ویں اجلاس کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے ایران اور ترکمانستان کے درمیان گہرے تاریخی تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے مزید کہا کہ ایران کی ترکمانستان کے ساتھ ایک ہزار کلومیٹر سے زیادہ محفوظ سرحد ہے اور دونوں ممالک کے درمیان بہت اچھے تاریخی تعلقات رہے ہیں۔

قاسمی نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی اور اقتصادی تعلقات کورونا کے پھیلنے سے پہلے بہت اچھے اور نمایاں تھے اور اس کی مالیت کئی ارب ڈالر تک پہنچ گئی جس میں برآمدات اور درآمدات شامل تھیں اور اب دونوں ممالک کے تعلقات اور تجارت میں کورونا کے پھیلاؤ کی وجہ سے پابندیاں لگائی گئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس اجلاس سے پہلے ترکمانستان کے وزیر خارجہ سے ملاقات میں تین شعبوں میں تعلقات کو وسعت دینے سے اتفاق کیا گیا۔

قاسمی نے کہا کہ توانائی، گیس اور بجلی کے شعبے میں تعاون سے اتفاق کیا گیا جو حتمی معاہدے میں شامل ہوں گے اور ایران اس وقت توانائی کے شعبے میں ترکمانستان سے وسیع پیمانے پر تعاون کر سکتا ہے۔

ایرانی وزیر برائے مواصلات اور شہری ترقی نے کہا کہ اب دونوں ممالک کے درمیان ریل ٹرانزٹ ہے لیکن یہ کورونا پھیلنے کی وجہ سے محدود ہے۔ ریل ٹرانزٹ دوگنا ہوجائے گا۔

انہوں نے کہا کہ زمینی نقل و حمل کی ترقی سے اتفاق کیا گیا اور نئے پروٹوکول پر انحصار کرتے ہوئے ٹرانزٹ کی اس شکل کو بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا، جو کہ کورونا پابندیوں کی وجہ سے کم ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ کہ بحری نقل و حمل بھی ایران اور ترکمانستان کے درمیان اہم مسائل میں سے ایک ہے جس پر بات چیت کی جاسکتی ہے۔ ایران کی شمالی بندرگاہوں اور ترکمان بندرگاہوں میں موجود صلاحیتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے، اس نقل و حمل کی توسیع کی ضرورت ہے۔

قاسمی نے ایران اور ترکمانستان کے درمیان، ایران، بھارت اور افغانستان کے درمیان چابہار بندرگاہ کے استعمال کے سہ فریقی معاہدے میں حصہ لینے سے اتفاق کرنے کا حوالہ دیا اور کہا کہ س طرح ترکمانستان چابہار کی بندرگاہ کو شمالی ممالک حتیٰ کہ روس تک سامان کی ترسیل کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔

اس اجلاس میں جنوبی ایرانی بندرگاہوں میں ترکمانستان کی سرمایہ کاری اور ترکمان بندرگاہوں میں ایرانی سرمایہ کاری پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

انہوں نے عالمی تجارت کی راہ میں ایران اور ترکمانستان کے فوائد کا ذکر کرتے ہوئے مزید کہا کہ بھارت، چین اور بڑے ممالک سے ایران، ترکمانستان، شمالی ممالک اور روس تک سمندری اور زمینی راہداری کے راستے بنانے کے لیے اس صلاحیت کو بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا۔

قاسمی نے کہا کہ یہ ایران اور ترکمانستان کے لیے بہت سارے فوائد کا حامل ہو سکتا ہے اور دونوں ممالک کے لیے بہت فیصلہ کن اور مفید ثابت ہو سکتا ہے۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha