امریکی پابندیوں نے ایران میں ایپیڈر مولیز بولوسا کا شکار 15 بیماروں کی جان چھین لی

تہران، ارنا- ایران ای بے ہاوس کے مینجنگ ڈائریکٹر نے کہا ہے کہ امریکہ، ادویات کے شعبے میں ایران کیخلاف پابندیوں کو استثنی دینے سے متعلق جھوٹ بولتا ہے کیونکہ حالیہ سالوں میں ضروری ڈریسنگ کی عدم موجودگی کی وجہ سے اپییڈرمولیز بولوسا کا شکار 15 بیمار جان کی بازی ہارگئے۔

انہوں نے مزید کہا کہ البتہ اب، محکمہ خارجہ اور حکومت کے تعاون سے عالمی ادارے برائے اطفال (یونیسف) نے آئندہ سال تک ان بیماروں کیلئے ضروری ڈریسنگ کی فراہمی کی ہے۔

"سید حمید رضا ہاشمی" نے بدھ کے روز ارنا نمائندے کیساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ سالوں کے دوران، ایپیڈرمولیزبولوسا کا شکار بیماروں کے مشکلات کا اہم حصہ پابندیوں کی وجہ سے ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ جوہری معاہدے سے امریکی یکطرفہ علیحدگی کے بعد، ایران کیخلاف پابندیوں کا مزید اضافہ ہوگیا اور مئی 2018ء سے مئی 2019ء تک ایپیڈرمولیز بولوسا کا شکار 15 مریض،  ضروری ڈریسنگ کی عدم موجودگی کی وجہ سے جاں بحق ہوگئے۔

ہاشمی نے کہا کہ ای بے بیماروں کیلئے مخصوص ڈریسنگ ایک سوئڈش کمپنی میں تیار کی جاتی ہے اور صرف اسی ڈریسنگ کو ان بیماروں کیلئے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دنیا کے 50 ممالک میں موجود ایپیڈر مولیز بولوسا کا شکار مریض بھی یہی ڈریسنگ کا استعمال کرتے ہیں؛ اس ڈریسنگ کا اعلی معیار ہے اور اس کے استعمال سے اچھے نتائج برامد ہوئے ہیں۔

ہاشمی نے کہا کہ اس ڈریسنگ کی تیاری دیگر ملکوں میں ممکن نہیں کیونکہ ان کے پاس ضروری ٹیکنالوجی نہیں ہے اور بی اے بیماروں کی تعداد کی کمی وجہ سے ان کی تیاری کا زیادہ معاشی فائدہ نہیں ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ امریکی پابندیوں کی وجہ سے ایران میں ان ڈریسنگ کی برآمدات کی روک تھام ہوئی جس کے نتیجے میں 15 بیمارجان بحق ہوگئے؛ تو اب امریکہ کیسا اس بات کا دعوی کرتا ہے کہ ایران میں ادویات اور خوراک پر پابندی عائد نہیں ہے؟ ان کے عملی اقدامات اور ان کے نعروں میں زمین سے آسمان تک فرق ہے۔

واضح رہے کہ امریکی معاشی پابندیوں کے ذریعے انسانی حقوق کی پامالی کرنے والوں کو جوابدہ ٹھہرانے کیلئے گزشتہ دنوں میں ایران کے ای بے ہاؤس اور متعدد مقامی وکلاء کے ذریعے سوئڈن کے نیشنل سینٹر کال میں مونلیک میڈیکل ڈیوائسز کمپنی کیخلاف شکایت درج کی گئی۔

سویڈن میں قائم مونلیک میڈیکل ڈیوائسز کمپنی نے جوہری معاہدے سے امریکی علیحدگی کے بعد ایران کیخلاف امریکی یکطرفہ پابندیوں کی پیروی کرتے ہوئے ایرانی درآمد کرنے والی کمپنیوں کو ایپیڈرمولیز بولوسا کا شکار بیماروں کی صحت اور زندگی کے لئے "ضروری ڈریسنگ" سمیت ادویات اور طبی سامان کی فروخت بند کردی۔

ان ڈریسنگز کی فروخت بند ہونے اور کو ایپیڈرمولیز بولوسا کا شکار بیماروں کو اس ضروری طبی مصنوعات تک رسائی سے محروم رکھنے کے بعد، ایپیڈرمولیز بولوسا کا شکار بیماروں کی ایک بڑی تعداد خاص طور پر بچے، جان کی بازی ہارگئے اور دوسروں کو شدید جسمانی نقصان جیسے امپیوٹیشن سامنے آئیں۔

لہذا امریکی معاشی پابندیوں کے ذریعے انسانی حقوق کی پامالی کرنے والوں کو جوابدہ ٹھہرانے کیلئے ایران کے ای بے ہاؤس اور متعدد مقامی وکلاء کے ذریعہ سوئڈن کے نیشنل سینٹر کال میں مونلیک میڈیکل ڈیوائسز کمپنی کیخلاف شکایت درج کی گئی۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha