ایران اور چین کے درمیان جامع تعاون معاہدہ دوسرے ملکوں سے تعاون کا نمونہ بن سکتا ہے

 اسلام آباد، ارنا- پاکستان میں تعینات اسلامی جمہوریہ ایران کے سفیر نے کہا ہے کہ ایران اور چین کے درمیان جامع تعاون معاہدہ؛ اسلامی جمہوریہ ایران کیساتھ دوسرے ممالک کے طویل المیعاد دوطرفہ یا کثیرالجہتی تعاون کے نمونے کے طور پر متعارف کرایا جاسکتا ہے۔

ان خیالات کا اظہار "محمد علی حسینی" نے پیر کے روز ایک ٹوئٹر پیغام میں کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران اور چین کے مابین سفارتی تعلقات کی 50 ویں سالگرہ کے موقع پر دونوں ملکوں کے وزرائے خارجہ نے تہران- بیجنگ کے درمیان 25 سالہ تعاون سے متعلق دستاویزات پر دستخط کئے۔

حسینی نے کہا کہ اس معاہدے کےمطابق؛ دونوں ممالک کے درمیان تعاون کے سب سے اہم شعبے صنعت، نقل وحمل، توانائی اور ٹیکنالوجی ہیں۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ تعاون پروگرام کسی تیسرے ملک کیخلاف نہیں ہے، بلکہ اسلامی جمہوریہ ایران کیساتھ دوسرے ممالک کے طویل المیعاد دوطرفہ یا کثیرالجہتی تعاون کےنمونے کے طور پر بھی متعارف کرایا جاسکتا ہے۔

واضح رہے کہ اقوام متحدہ کی جانب سے کئی پابندیوں کا سامنا کرنے والے چین اور ایران نے ایک دوسرے سے تعاون کے 25 سالہ اسٹریٹیجک معاہدے پر دستخط کردیئے ہیں۔

تہران میں منعقدہ ایک تقریب میں 25 سالہ تعاون کے اس معاہدے پر دستخط، ایران کے وزیر خارجہ "محمد جواد ظریف" اور چین کے وزیر خارجہ "وانگ ای" نے 27 مارچ کو کیئے؛ تاہم یہ معاہدہ اس وقت سے جاری ہے جب چین کے صدر 2016ء میں ایران کے دورے پر آئے تھے

 **9467
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@۔

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
1 + 12 =