پاک ایران کی اقتصادی سفارتکاری؛ تجارتی رکاوٹوں کو دور کرنے کیلئے کوشش

اسلام آباد، ارنا – اسلامی جمہوریہ ایران اور پاکستان کے درمیان دوسری باضابطہ سرحد کے افتتاح اور تعاون کی ترقی کے لئے نئے مواقع کی تشکیل کے ساتھ دونوں ممالک کے چیمبرز آف کامرس سفارتی حکام کے ساتھ تجارت میں اضافے کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کے لئے باہمی رابطوں اور اتفاق رائے کو بڑھانے کے لئے پرعزم ہیں۔

تہران اور کراچی چیمبرز آف کامرس کے مشترکہ اجلاس کا دونوں ممالک کے سینئر سفارت کاروں اور کاروباری ماہرین کی موجودگی کے ساتھ انعقاد کیا گيا جس کا مقصد مشترکہ تجارت کا حجم 5 ارب ڈالر تک بڑھانے کی صلاحیت کی پر تبادلہ خیال کرنا ہے۔
اس مشترکہ ورچوئل نشست میں ایران میں تعینات پاکستانی سفیر "رحیم حیات قریشی" اور کراچی میں ایرانی قونصلر جنرل "احمد محمدی" نے شرکت کی جنہوں نے دونوں ممالک کے مابین تجارت کو فروغ دینے کی صلاحیتوں ، چیلنجوں اور حکمت عملی کا جائزہ لیا۔
ایرانی چمیبر آف کامرس کے چیئرمین "مسعود خوانساری" جس نشست کی میزبان تھے، نے دونوں ممالک کے مابین تجارتی چیلنجوں کا جائزہ لینے کے لئے تہران چیمبر اور ایران میں پاکستانی سفارت خانے کے مابین مشترکہ کمیٹی تشکیل دینے کا اعلان کرتے ہوئے ایران اور پاکستان کے مابین تجارتی تعلقات کو فروغ دینے میں دونوں ممالک کے درمیان اعلی نرخوں اور بینکاری تعلقات کی کمی دو اہم چیلنجوں کا حوالہ دیا۔


انہوں نے ریمدان گبد بارڈر کے افتتاح کے مثبت اثرات کا حوالہ دیتے ہوئے جسے اہم واقعہ قرار دیا ، جو چابہار بندرگاہ کو گوادر اور کراچی کی بندرگاہوں سے قریب سے جوڑتا ہے ، دونوں ممالک کی اقتصادی تعاون کو بڑھانے پر آمادگی کی علامت ہے۔
ایران میں پاکستانی سفیر نے بھی امید ظاہر کی ہے کہ دونوں ممالک کی اہم کاروباری تنظیموں کی حیثیت سے تہران اور کراچی کے دونوں ایوانوں کے مابین باہمی رابطوں اور تعاون کے اضافے سے ، آئندہ برسوں میں ایران اور پاکستان کے تجارت کا حجم 3 ارب ڈالر کے قریب ہوگا اور  5 ارب ڈالر تک بڑھ جائیں گے۔
احمد محمدی نے بیرون ملک ایران کے مشنوں میں اقتصادی سفارتکاری کی ترجیح پر تبصرہ کرتے ہوئے ایران - پاکستان کے تعاون کو بڑھانے کے شعبوں سمیت ، پیٹرو کیمیکلز ، تعمیراتی مواد ، خوراک ، توانائی اور تکنیکی اور انجینئرنگ خدمات کی برآمدات سمیت موجودہ تاجروں کو اس میٹنگ میں وضاحت کی۔


کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے نائب سربراہ نے سرحدی باشندوں کی فلاح و بہبود اور روزگار میں اضافے کے لئے دونوں ممالک کے مابین تجارت میں ریال روپے کی ادائیگی کے طریقہ کار کو استعمال کرنے اور تجارتی تعاون اور ٹکنالوجی کی منتقلی کو فروغ دینے کے لئے دونوں ممالک کی سرحدوں پر صنعتی ٹاؤن کے قیام کے خیال پر زور دیا۔ ا
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

متعلقہ خبریں

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
9 + 8 =