اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی ایران مخالف قرارداد کا کوئی قانونی حق نہیں ہے

تہران، ارنا – ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ایران مخالف قرارداد کو کالعدم قرار دیتے ہوئے ایران پر دباؤ ڈالنے کے لئے بین الاقوامی اداروں کو ایک آلے کے طور پر استعمال کرنے میں قرار داد کے بانیوں کے طرز عمل کی مذمت کی ہے۔

یہ بات سعید خطیب زادہ نے آج بروز جمعرات اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ایران مخالف قرارداد کی منظوری پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہی.

انہوں نے مزید بتایا کہ ایران مخالف انسانی حقوق کی قرارداد جس کا بانی کینیڈا ہے، کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔

ایرانی ترجمان نے کہا کہ گزشتہ روز اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں کینیڈ کی جانب سے پیش کی جانے والی قرارداد اقوام متحدہ کے نصف سے بھی کم ممالک کے ووٹوں کے ساتھ منظوری دی گئی اور 110 ممالک سے زائد ممالک نے اس قرارداد کی مخالفت کی۔

خطیب زادہ نے کہا کہ اقوام متحدہ کی تیسری کمیٹی کی طرح اقوام متحدہ کے تقریبا 190 ممبر ممالک میں سے 114 ممالک نے اس قرارداد کی حمایت نہیں کی ہے۔

قابل ذکر ہے کہ ایران کے خلاف کینیڈا کی جانب سے مجوزہ قرارداد، جو مغربی ممالک کے ایک گروپ کے مابین کئی سالوں سے نیویارک میں پیش کی جارہی ہے، کو گزشتہ روز اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے منظور کرلیا ہے ۔ ابتدائی طور پر جنرل اسمبلی کی تیسری کمیٹی نے اس قرارداد کی تصدیق کی تھی ۔ صیہونی حکومت ، امریکہ ، سعودی عرب ، بحرین ، متحدہ عرب امارات ، البانیہ ، برطانیہ ، کینیڈا ، فرانس اور جرمنی سمیت 80 سے کم ممالک نے اس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا۔ تاہم اقوام متحدہ  کے ممبروں کی اکثریت جن کی تعداد115 ممالک تک پہنچ جاتی ہے، نے اس قرارداد کی حمایت کرنے سے انکار کردیا۔

 ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha