18ایرانی بینکوں پر عائد امریکی پابندیوں پر ایرانی مندوب کا ردعمل

تہران،ارنا – ویانا میں بین الاقوامی تنظیموں میں ایرانی مندوب نے 18 ایرانی بینکوں پر نئی پابندیوں کے امریکی اقدام کو عام لوگوں کی جان کو خطرہ ڈالنے کیلیے امریکہ کے اور اقدام قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سلسلے میں یورپ کی بھاری ذمہ داری عائد ہے۔

یہ بات کاظم غریب آبادی نے  اپنے ذاتی انسٹاگرام اکاؤنٹ پر لکھی۔

انہوں نے 18 ایرانی بینکوں کے خلاف امریکی نئی پابندیوں کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ، "معاشی دہشت گردی کے ذریعے عام لوگوں کی جان کو خطرہ میں ڈالنے کیلیے امریکی حکومت کے مجرمانہ اقدامات ختم نہیں ہوں گے۔

امریکی حکومت  نے ایک اور اقدام کے تحت 18 ایرانی بینکوں پر پابندیاں عائد کردیں ایک طرف سے وہ دعوی کرتی کہ ادویات اور کھانے کی درآمدات پر کوئی پابندی نہیں، لیکن دوسری طرف سے وہ ان اشیا کی درآمدات کے اخراجات کی ادائیگی کے لئے دستیاب چینلز کو مکمل طور پر روک دیتی ہیں لیکن امریکہ کی اس گندا کھیل سب پر معلوم ہے۔

ان کے کہنے کے مطابق امریکہ جس نے انسانی حقوق کا دعوی کرتا ہے اس طرح کی پابندیوں سے براہ راست عام انسانوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال دیا ہے اور اس سلسلے میں  یورپ کو صرف امریکہ کے ان تباہ کن اقدامات پر اظہار افسوس کرنے پر مطمئن نہیں ہونا چاہئے۔

غریب آبادی نے کہا کہ امریکی غیر انسانی اقدامات سے نمٹنے سے متعلق اپنے وعدوں پر عمل کرنے کے ساتھ ساتھ جوہری معاہدے سے متعلق اپنے وعدوں پر پورا کرنے کے لیے یورپ کی بہاری ذمہ داری ہے۔

ویانا میں ایران کے سفیر اور بین الاقوامی تنظیموں کے مستقل نمائندے نے کہا کہ امریکی رجیم کے عہدیداروں نے اعلان کیا ہے کہ وہ ایران کو اپنی شرائط کے مطابق مذاکرات کی میز پر لانے کے لئے ایران پر زیادہ سے زیادہ دباؤ جاری رکھیں گے۔

لیکن امریکہ کو یہ سمجھنا چاہئے کہ یہ حکمت عملی ایران کیلیے کامیاب نہیں ہوگی۔

غریب آبادی نے کہا کہ امریکہ نے ایران اور ایرانیوں کے وقار اور ساکھ کو نشانہ بنایا ہے۔ ایران اور ایرانی امریکی اقدامات کے مقابلہ کرنے اور پابندیوں کے اثرات کو کم کرنے کے لئے اپنی پوری کوشش کریں گے تاکہ امریکہ آئندہ انتخابات میں اپنے مقاصد کو حاصل نہ کر سکے۔

انہوں نے امریکہ کی ان ظالمانہ اور یکطرفہ پابندیوں  کو ، انسانیت کے خلاف جرم قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان جرائم سے نمٹنے کے لئے تمام گھریلو ، سیاسی ، بین الاقوامی اور قانونی صلاحیتوں کا استعمال کیا جانا چاہئے۔

یاد رہے کہ امریکی محکمہ خزانہ کے دفتر برائے غیر ملکی اثاثوں کے کنٹرول نے جمعرات کے روز ایرانی عوام کو گھٹنوں تک لانے کے مقصد کے ساتھ امین کیپیٹل کمپنی، زرعی ، ہاؤسنگ ، ورکرز ویلفیئر ، شہری ، نیا اکانومی ، رسالت ، حکمت ایرانی اور ایران زمین بینکوں پر نئی پابندیاں عائد کی۔

اس بیان میں اسلامی علاقائی تعاون ، کارافرین ، مڈل ایسٹ ، مہر ایران کریڈٹ انسٹی ٹیوشن ، پاسارگاد ، سامان ، سرمایہ ، کوآپریٹو ڈویلپمنٹ  اور سیاحت بینکیں اس فہرست بھی شامل ہیں۔

دریں اثنا ، امریکہ نے گذشتہ روز ایک فریب اقدام میں دعوی کیا تھا کہ ایران نے کرونا سے لڑنے میں مدد کی پیش کش کو مسترد کردیا ہے۔

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha