شنگھائی تعاون تنظیم میں رکنیت کیلیے ایران کے پاس تمام شرائط ہیں

ماسکو، ارنا – روسی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ شنگھائی تنظیم میں رکنیت کیلیے ایران کے پاس تمام شرائط ہیں

یہ بات سرگئی لاوروف نے منگل کے روز روسی وزارت خارجہ میں ایرانی وزیر خارجہ محمد جوادظریف' کے ساتھ منعقدہ ایک پریس کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے کہی۔

انہوں نے اس سوال کہ، ایران نے 2008 میں شنگھائی تعاون تنظیم میں رکنیت کے لئے ایران کی درخواست دی اور شنگھائی تعاون تنظیم میں ایک مبصر رکن ہے اور اب اس تنظیم میں ایران کی رکنیت کی راہ میں کیا رکاوٹیں ہیں، کے جواب میں کہا کہ ہم  شنگھائی تعاون تنظیم میں اس ملک کی مکمل رکنیت کے لیے کوئی رکاوٹ نہیں دیکھتے ہیں۔

لاوروف نےکہا کہ ہمیں یقین ہے کہ ایران کے پاس شنگھائی تعاون تنظیم میں شمولیت کے لئے تمام شرائط ہیں۔

یہ امر قابل ذکر ہے کہ اس تنظیم کے ممبروں کی تعداد ابتدا میں چھ ممالک تھے، جو اب  بڑھ گئی ہے اور 2017 کو سے ہندوستان اور پاکستان نے شمولیت اختیار کی ، اور ایران ، افغانستان ، بیلاروس اور منگولیا بھی مبصر ہیں۔ تاہم ، روس اور چین اب بھی اس تنظیم میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔

لاوروف نے کہا  کہ روس نے شروع ہی سے شنگھائی تعاون تنظیم میں رکنیت کے لئے ایران کی درخواست کی حمایت کی ہے۔

سرگئی لاوروف نے کہا کہ اس تنظیم کی شمولیت کے لیے ایران کی تجویز کی منظوری کو اجتماعی اتفاق رائے کی ضرورت ہے جس کے حصول کیلیے ہم اپنی بھرپور کوشش کر رہے ہیں۔

قابل ذکر ہے کہ روس میںتعینات ایرانی سفیر ' کاظم جلالی ' نے ایران اور شنگھائی تعاون تنظیم کے مابین تعاون پر تبادلہ خیال کے لئے روسی صدر کے نمائندے سے ملاقات کی۔

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
8 + 10 =