ایران اور یوریشین یونین کے تجارتی حجم کی شرح ڈھائی ارب ڈالر تک پہنچ گئی

ماسکو، ارنا- روس میں تعینات اسلامی جمہوریہ ایران کے سفیر نے کہا ہے کہ ایران اور یوریشین یونین کے درمیان تجارتی معاہدے کے نفاذ کے سات مہینے گزرنے کے بعد ایران اور اس یونین کے درمیان تجارتی حجم کی شرح 2 ارب 417 ملین ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔

ان خیالات کا اظہار "کاظم جلالی" نے آج بروز منگل کو ایران اور یوریشین یونین کے درمیان تجارتی ورکنگ گروپ کے پہلے آن لائن اجلاس کے موقع گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

منعقدہ اس اجلاس میں دونوں ممالک کی تجارتی ترقی اور کسٹم ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن کے عہدیداروں اور یوریشین اقتصادی کمیشن کے وفد کے سربراہ نے حصہ لیا تھا۔

اس موقع ایرانی سفیر نے کہا کہ ایران اور یوریشین یونین کے درمیات تجارتی حجم کے 72 فیصد کا حصہ یوریشیایی ممالک سے ایرانی درآمدات پر مشتمل ہے اور باقی 28 فیصد کا حصہ بھی ان ممالک کو ایرانی برآمدات پر شامل ہے۔

انہوں نے علاقائی اتحادوں کے کردار اور ساتھ ہی ہمسایہ ممالک سے معاشی تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایرانی پالیسی کی بنیادی اصولوں میں سے ایک ہے جس کا ہم سنجیدگی سے تعاقب کر رہے ہیں۔

جلالی نے کہا کہ ہمارا عقیدہ ہے کہ ایران ار یوریشین یونین کے درمیان طے پانے والے اقتصادی معاہدے سے ایران اور پڑوسی ملکوں کے درمیان معاشی تعلقات کے فروغ سمیت خطے میں قیام امن اور استحکام کے فروغ کا باعث ہوگا۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران اور یوریشین یونین کے درمیان آزاد تجارت کے عبوری معاہدے کا 27 اکتوبر سے آغاز کیا گیا۔

اس معاہدے کے نفاذ کے ایک سال بعد، ایران اور یوریشن رکن ممالک کیساتھ آزادانہ تجارت کے انتظامات کیے جائیں گے۔

اس عبوری تجارتی معاہدے میں 862 کی مختلف قسم مصنوعات شامل ہیں جن میں سے 360 قسم کی مصنوعات کو ایران سے یوریشن یونین میں برآمدات کی جاتی ہے اور باقی 502 قسم کی مصنوعات کو یوریشین یونین سے ایران میں برآمد ہوجائے گی۔

فی الحال، روس، بیلاروس، قازقستان، آرمینیا اور کرغزستان یوریشین یونین کے پانچ ممبر ہیں لیکن اس یونین نے 40 سے زیادہ ممالک اور بین الاقوامی تنظیموں کے ساتھ کام کرنے کیلئے اپنی آمادگی کا اظہار کرلیا ہے۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
5 + 3 =