شام اور مزاحمتی فرنٹ کی حمایت میں ایران کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے

تہران، ارنا - سنیئر نائب ایرانی صدر نے کہا ہے کہ شام اور مزاحمتی فرنٹ کی حمایت میں ایران کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔

یہ بات اسحاق جہانگیری نے آج بروز جمعرات شامی وزیر اعظم ' حسین عرنوس' کے ساتھ ایک ٹیلی فونک رابطے کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہی۔

انہوں نے کہا کہ ایران ایک اسٹریٹجک پارٹنر کی حیثیت سے ہمیشہ شامی حکومت اور عوام کے شانہ بشانہ کھڑا رہے گا ، اور شہید سردار سلیمانی کے بزدلانہ قتل سے شام اور مزاحمتی فرنٹ کی حمایت میں ایران کی پالیسیوں میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔

اسلامی جمہوریہ ایران شامی عوام پر دباؤ کو کم کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑے گا اور خدا کے فضل و کرم سے شام امن اور استحکام حاصل کرے گا۔

جہانگیری نے کہا کہ شامی حکومت، عوام اور مسلح افواج کی مزاحمت  کے اچھے نتیجے کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ اس ملک نے اس حوالے سے اچھی کامیابیوں کو حاصل کیا ہے۔

عرب برادری میں شام کی مضبوط موجودگی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شامی عوام کی فتح کی علامت ہے جو یہی کامیابیاں اور فتوحات، شام کے علاقے پر صیہونی حکومت کی مداخلت کی وجہ ہے۔

انہوں نے 2015 میں سابق شامی وزیر اعظم کے ساتھ اپنی حالیہ ملاقاتوں اور 2019 میں اپنے دورہ دمشق کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہہمیں اقتصادی تعاون سے متعلق مشترکہ کمیشن اور باہمی تعلقات کی اسٹریٹجک کمیٹی میں  طے پانے والے دو طرفہ معاہدوں پر جلد از جلد عمل کرنا چاہیے

٭٭ عالمی برادری خاص طور پر اقوام متحدہ کو کرونا کےدوران میں شامی عوام کی حمایت کرنی چاہئے۔

شامی وزیر اعظم نے نائب ایرانی صدر کے تہنیتی پیغام کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ہم ہمیشہ شامی حکومت اور عوام کے شانہ بشانہ کھڑے رہیں گے ، اور شہید سردار سلیمانی کے بزدلانہ قتل سے شام اور مزاحمتی فرنٹ کی حمایت میں ایران کی پالیسیوں میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔

انہوں نے تہران کےساتھ تعلقات کی مزید مضبوطی کیلیے دمشق کی دلچسبی  اور ایرانی وفد کے دورہ  شام کے دوران دستخط ہونے والے معاہدوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہم ہم شامی عوام کی حمایت اور اس ملک پر دباؤ کم کرنے میں اسلامی جمہوریہ ایران کی امداد کی تعریف کرتے ہیں۔

شامی وزیر اعظم نےاس بات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے مابین تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے کسی بھی اقدام شامی حکومت کے لئے اہم ہے اور  اپنے ملک کے مواقف کی حمایت کیلیے ایرانی سپریم لیڈر، صدر اور اسلامی جمہوریہ ایران کی حکومت کا اظہار تشکر کیا۔ .

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
3 + 6 =