14 جون، 2020 4:54 PM
Journalist ID: 2393
News Code: 83821676
0 Persons
چابہار؛ عالمی  بندرگاہ

چابہار، ارنا – چابہار بندرگاہ اسٹریٹجک مقام اور آزاد پانیوں تک رسائی کی وجہ سے تجارت اور ٹرانزٹ کے لئے ایک محفوظ راستہ اور سرکاری و نجی حصوں اور غیر ملکی اور ملکی تاجروں کے لیے ایک قیمتی گنج ہے۔

چابہار بندرگاہ  اپنی جغرافیائی پوزیشن اور کھلے پانیوں سے منسلک ہونے کی وجہ سے تجارت اور نقل وحمل کے شعبے میں ایک محفوظ  بندرگاہ ہے۔

یہ بندرگاہ نجی اور سرکاری شعبوں میں کارو باری افراد کے لیے ایک قابل بھروسا گنج ہے جو بنیادی ڈھانچے کی فراہمی کیلیے حکومت کی بڑی سرمایہ کاری کے ساتھ سرمایہ کاری کے وافر مواقع سے فائدہ اٹھانے پر تیار ہے۔

اس بندرگاہ جغرافیائی اور معاشی پوزیشن ، بڑے بحری جہازوں کے لنگر انداز ہونے کی صلاحیت، سامان کے داخلے اور نکلنے اور سمندر سے منسلک ہونے کی وجہ سے خطے میں تجارت اور ٹرانزٹ کا ایک مرکز بنتی جا رہی ہے اور جلد ہی عالمی سطح پر ایک کثیر مقصدی بندرگاہ کی حیثیت سے اپنے کردار کا ادا کر سکتی ہے۔

چابہار بندرگاہ میں بڑے جہازوں کی آمد سے پتہ چلتا ہے کہ یہ بندرگاہ ان لوڈنگ اور لوڈنگ کے نئے اور جدید ترین سامان کے ساتھ ، سامان کی منتقلی اور اتارنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے اور اس قابلیت کی وجہ سے چابہار بندرگاہ میں ہر قسم کے سامان کو اتارنے اور لوڈ کرنے پر کوئی پابندی نہیں ہے۔

چابہار، دی جانے والی چھوٹ کے باوجود خلیج فارس اور بحیرہ عمان کی بندرگاہوں میں سامان کی منتقلی اور برآمدات کے لئے سب سے سستی بندرگاہ ہے۔

چابہار بندرگاہ دنیا کی سب سے زیادہ  گنجان آباد منڈیوں کو مربوط کرنے کے لیے سب سے سستا اور محفوظ ترین راستہ ہے  جو بحر ہند کے 21 ممالک کی آبادی تقریبا 2 ارب اور مشرقی وسطی ،قفقاز  اور مشرقی یوروپ  کے ممالک کی آبادی تقریبا 800 ملین ہے۔

صوبے سیستان و بلوچستان کی پورٹس اینڈ شپنگ تنظیم کے دائریکٹر مینجر "بہروز آقایی" نے تجارتی بندرگاہ کی اہمیت کے حوالے سے ارنا کے نمائندے کو دئے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ

شہید بہشتی اور شہید کلانتری کی بندرگاہوں کی موجودگی کی وجہ سے بڑے بحری جہازوں کے لنگرانداز ہونے، لوڈنگ، ان لوڈنگ کے ساتھ ہی ٹرانزٹ اور برآمدات کے فروغ کا ملک کے مشرقی جنوب میں امکان ہے۔

انہوں نے  مزیدکہا کہ دوسرے ترقیاتی مرحلے میں دو نئی گودیوں کی تشکیل کے ساتھ اس اسٹریٹجک بندرگاہ میں ان لوڈنگ اور لوڈنگ آپریشن کی ترقی میں نمایاں نمو ہوگی۔

آقایی نے کہا کہ مکران کے خوبصورت ساحلوں میں واقع چابہار بندرگاہ کو ملک کی سب سے اہم بندرگاہوں کی حیثیت سے اور آبنائے ہرمز سے باہر ملک کا واحد سمندری بندرگاہ،عالمی سطح پر ایک بہت ہی عمدہ اسٹریٹجک پوزیشن کی حامل ہے جو جنوب مشرق میں جو جنوب مشرق میں تجارت اور نقل و حمل کو ترقی دے سکتی ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ  یہ بندرگاہ افغانستان کے لئے سامان کی آمدورفت اور برآمدات کے لئے ایک سنہری مواقع ہے۔

آقایی نے کہا کہ ایک ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے ساتھ چابہار کی شہید بہشتی میں بندرگاہ کی تعمیر کا ایک مقصد مشرقی محور کی ترقی اور لوگوں کے درمیان تجارتی اور معاشی تعلقات کو فروغ دینا ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ  یہ بندرگاہ افغانستان کے لئے سامان کی آمدورفت اور برآمدات کے لئے ایک سنہری مواقع ہے۔

آقایی نے کہا کہ ایک ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے ساتھ چابہار کی شہید بہشتی میں بندرگاہ کی تعمیر کا ایک مقصد مشرقی محور کی ترقی اور لوگوں کے درمیان تجارتی اور معاشی تعلقات کو فروغ دینا ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ افغانستان اور پاکستان کی مشترکہ سرحدوں پر موجودہ مسائل اور چابہار بندرگاہ کے ذریعے اپنی برآمدی کھیپ دوسرے ممالک میں بھیجنے کے لیے تاجروں کی خواہش کے باوجود چابہار- میلک کے ٹرانزٹ روڈ کا افتتاح سیستان و بلوچستان کے لیے چابہار- میلک کی ٹرانزٹ کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانے کا ایک بہترین موقع ہوگا.
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
8 + 5 =