تیل کی منڈی کو عالمی تعاون کی ضرورت ہے: ایرانی وزیر پیٹرولیم

تہران، ارنا – ایرانی وزیر پیٹرولیم نے کہا ہے کہ بڑھتی ہوئی فراہمی، گرتی ہوئی طلب اور کورونا کے خاتمے پر غیر یقینی صورتحال کے پیش نظر ، تیل کی منڈی کو عالمی سطح پر تعاون کی ضرورت ہے ، اور صرف اوپیک ہی تیل مارکیٹ کے مسئلے کو حل نہیں کرسکتا ہے۔

یہ بات "بیژن نامدار زنگنہ" نے بدھ کے روز ایرانی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
اس موقع پر انہوں نے تیل کی منڈی میں ضرورت سے زیادہ فراہمی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کرونا بحران میں ہوا بازی کی صنعت کا ایک اہم حصہ بند کردیا گیا ہے ، جس کی وجہ سے تیل کی کھپت میں تیزی سے کمی واقع ہوئی ہے۔
زنگنہ نے کہا کہ خام تیل کی طلب میں تیزی سے کمی واقع ہوئی ہے اور سال کی دوسری سہ ماہی کے تخمینے سے یہ ظاہر ہوا ہے کہ مارکیٹ طلب کے دوران سپلائی میں تین ملین بیرل اضافے کا سامنا کرنا پڑے گا مگر کرونا وائرس کے پھیلاؤ کی وجہ سے دس سے پہلے منعقدہ نشست میں یہ تعداد 14 ملین بیرل تک پہنچ چکی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اس بیماری کے نتیجے میں دوسری سہ ماہی میں 11 ملین بیرل مانگ میں کمی کی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ تیل کے ذخائر، طلب کی حالت کے ساتھ ساتھ کرونا کے خاتمے کے وقت کی غیر یقینی صورتحال نے قیمتوں میں اضافہ کو روکنے اور مسائل کو تیز کرنے کا باعث بنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ برینٹ تیل 20 سینٹ نیچے اور اوپیک کی ٹوکری 14.5 ڈالر ہے اور آئل مارکیٹ میں یہ قیمتیں برسوں سے نہیں دیکھی گئیں۔
ایرانی وزیر تیل نے کہا کہ صرف اوپیک کے اقدامات کافی نہیں ہے لہذا اوپیک کے رکن اور غیررکن پروڈیوسروں کو لازمی طور پر پیداوار کو کم کرنا چاہیئے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جس طرح پوری دنیا کو کورونا کے خلاف جنگ میں کوشش کرنا ہوگا ، اسی طرح آئل مارکیٹ میں توازن کے لئے بھی تعاون ہونا چاہئے۔
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha