سامراج، جمہوریہ اسلامی کے نظام کا دشمن ہے : ایرانی قائد

تہران، ارنا – ایرانی سپریم لیڈر نے فرمایا کہ سامراج کی اصل دشمنی جمہوری اسلامی کے نظام سے ہے۔

یہ بات آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے آج بروز جمعرات حضرت امام مہدی علیہ السلام کی ولادت باسعادت  کے موقع پر قومی ٹی وی کے ذریعے قوم سے  لائیو طور پر تقریر کرتے ہوئے کہی۔

انہوں نے کہا کہ کرونا کے مسئلے کی وجہ سے ہمیں دشمنوں کی سازشوں کو فراموش نہیں کرنا ہوگا اور فی الحال دنیا بھر میں لاکھوں افراد دشمن کے ظلم و ستم کا شکار ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ لاکھوں افراد بشمول یمن اور فلسطین کے عوام  اور دنیا کے بہت سے علاقوں کے لوگوں کو ظلم اور دباؤ کا سامنا ہیں۔

ایرانی سپریم لیڈر نے فرمایا  کہ کورونا انسانیت کے لئے ایک بڑی مشکل ہے لیکن ماضی کی مشکلات کے مقابلے میں یہ بہت معمولی مسئلہ ہے۔ آپ نے فرمایا کہ بتیس سال قبل انہی دنوں صدام کے طیاروں نے ایران اور خود اپنے ملک عراق کی سرحدوں کے اندر رہائشی علاقوں پر کیمیکل بم گرا کر کر کے ہزاروں افراد کو موت کی نیند سلا دیا تھا اور اس وقت بڑی طاقتوں نے صدام کا ساتھ دیا تھا اور انہی بڑی طاقتوں نے یہ کیمیاوی ہتھیار صدام کو دئے تھے اور آج تک کسی سے کوئی حساب اور جواب نہیں لیا گیا۔

آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے فرمایا کہ دو عالمی جنگوں میں دسیوں لاکھ افراد مارے گئے ۔ ویتنام کی جنگ میں بھی انسانوں کا قتل عام ہوا اور دیگر جنگوں منجملہ عراق پر حملے میں بڑی تعداد میں عراقی عوام شہید ہوئے-

انہوں نے اپنے ایک بیان میں  فرمایا کہ پورے ملک میں لوگوں نے ایک دوسرے کے ساتھ دل کھول کر تعاون کیا اور جس سے جو بھی ہو سکتا تھا اس نے دوسرے کی مدد کی اور یہ حقائق ایرانی عوام میں ایک گہری اسلامی ثقافت و تعلیمات کا پتہ دیتے ہیں جبکہ اس کے برخلاف مغربی تہذیب و تمدن نے اپنا اصلی چہرہ دکھا دیا-

رہبر انقلاب اسلامی نے فرمایا کہ پورے ملک میں لوگوں نے ایک دوسرے کے ساتھ دل کھول کر تعاون کیا اور جس سے جو بھی ہو سکتا تھا اس نے دوسرے کی مدد کی اور یہ حقائق ایرانی عوام میں ایک گہری اسلامی ثقافت و تعلیمات کا پتہ دیتے ہیں جبکہ اس کے برخلاف مغربی تہذیب و تمدن نے اپنا اصلی چہرہ دکھا دیا-

انہوں نے فرمایا کہ ایک حکومت کسی دوسری حکومت اور قوم کے ذریعے خریدے گئے ماسک و دستانے کو زبردستی چھین لے، یا وہاں کے لوگ چند گھنٹے کے اندر اندر پوری پوری دکان خالی کر دیں اور سامان کی قلت کے خوف سے زیادہ سے زیادہ خرید کر گھروں میں اسٹاک کر لیں یا پھر ٹوائلٹ پیپر کے لئے ایک دوسرے کی جان لینے کو تیار ہوجائیں یا پھر علاج کے دوران سن رسیدہ مریضوں کو نظر انداز کر کے ان کی بنسبت کم عمر بیماروں کاعلاج کریں، یہ سب مغربی ثقافت و تمدن کی دین ہے-

رہبر انقلاب اسلامی نے فرمایا کہ ابھی چند روز قبل ہی  ایک مغربی ملک کے سینیٹر نے کہا تھا کہ مغرب ایک زندہ وحشی ہے۔ آپ نے فرمایا کہ جب ہم کہتے ہیں مغرب میں وحشی روح پائی جاتی ہے اور ان کے ظاہر و باطن میں کوئی فرق نہیں ہے تو بعض لوگ اس کا انکار کرتے ہیں-  آپ نے فرمایا کہ مغربی حقیقت و ماہیت کے اندر ایک وحشی پن کا عنصر پایا جاتا ہے جو انکے مہذب ظاہر کے ساتھ سازگار نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان ممالک میں کچھ افراد نے کرونا کے خوف سے خودکشی کی ہے اور یہ طرز عمل حقیقت میں مغربی تہذیب کے فلسفے کا منطقی اور فطری نتیجہ ہے۔

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha