جنرل سلیمانی کی شہادت پر ایرانی خاموش نہیں بیٹھیں گے: پاکستانی شخصیات

اسلام آباد، ارنا - سنیئر پاکستانی تجزیہ نگار، سیاستدان اور میڈیا نے امریکہ کے دہشتگرد حملے میں شہید ہونے والے اعلی ایرانی کمانڈر جنرل قاسم سلیمانی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی قوم اس سانحے پر ہرگز خاموش نہیں رہے گی بلکہ ان کا ردعمل سخت ہوگا.

جنرل سلیمانی کی شہادت سے متعلق رپورٹس پاکستانی کے پرنٹ اور الکٹرانیک میڈیا کی پہلی خبر بن گئیں جہاں ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی نئی مہم جوئی سے پورا خطے اور عالمی سطح پر سنگین اثرات مرتب ہوں گے.
پاکستانی ڈاؤن اخبار نے لکھا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف امریکی اقدام مشرق وسطی جو اس سے پہلے زخمی ہوگیا ہے، کے لئے سب سے بڑا خطرہ ہے اور جنرل سلیمانی کی شہادت خطے میں نئے تنازعہ کی ایک چنگاریاں ہوسکتی ہیں.
پاکستانی نیشن اخبار کے مطابق، جنرل سلیمانی کی شہادت کے لئے ٹرمپ کا اقدام ایک نیا جنگ ہے جو امریکہ نے اسے آغاز کردیا ہے اور عراق میں سپاہ پاسداران کے کمانڈر پر حملہ بغداد اور واشنگٹن کے درمیان معاہدوں کے خاتمے کا باعث بنے گا.
پاکستانی سینیٹ کے خارجہ کمیشن کے چیئرمین سینیٹر "مشاہد حسین سید" نے جنرل قاسم سلیمانی کی شہادت پر اپنے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جب تناؤ گر رہا تھا ، ٹرمپ نے تمام منصوبوں کو نقصان پہنچایا۔
انہوں نے کہا کہ ٹرمپ کا مقصد امریکہ کے اندر میں سیاسی استحصال تھا.
حسین سید نے جنرل سلیمانی کو ایرانی قومی ہیرو قرار دے کر کہا کہ وہ صرف اپنے ملک سے متعلق نہیں تھے اور انہوں نے خطے میں اہم کردار کا ادا کیا.
انہوں نے کہا کہ بے شک تاریخ شام اور عراق میں دہشتگردوں سمیت داعش اور دوسرے انتہاپسند گروہوں کے خلاف جنگ میں جنرل سلیمانی کے طاقتور کردار کو فراموش نہیں کرے گی.
پاکستانی ممتاز ماہر "ایاز امیر" نے کہا کہ جنرل سلیمانی جنگجوؤں کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا تھے اس قدر کہ دنیا کی مظلوم اقوام جنرل سلیمانی کی طرح رہنماء اور کمانڈر کے خواہاں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مغربی طاقتیں شام، عراق، فلسطین، لیبی، یمن اور افغانستان میں بڑھتے ہوئے تنازعات کا اصلی عنصر ہیں مگر جنرل سلیمانی نے دہشتگردوں سے متاثرہ مظلوم قوموں کی حمایت کی.
ایاز امیر نے اس بات پر زور دیا کہ جنرل سلیمانی کی شہادت کے بعد قاتل اور مقتول کے مابین فرق کو سمجھ جانا چاہیئے تمام ممالک سمیت پاکستان کو امریکہ کے اصلی چہرے پر واقف ہونا ہوگا.
ایک اور پاکستانی اعلی تجزیہ کار "حسن عسگری" نے کہا کہ ایران دوسرے ممالک کی طرح مغرب پر منحصر نہیں اسی لئے ان کے دشمن خطے میں اس کے اہم کردار کو برداشت نہیں کرسکتے ہیں.
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایرانی عوام ہرگز جنرل سلیمانی کی شہادت کو فراموش نہیں کریں گے اور آج سے خطے میں امریکی مفادات خطرات سے سامنا ہوں گے.
یاد رہے کہ ایرانی پاسداران انقلاب فورس کی القدس بریگیڈ کے ممتاز کمانڈر جنرل "قاسم سلیمانی" جمعہ کے روز علی الصبح بغداد میں دہشت گردی کی کارروائی میں شہید ہوگئے تھے۔
امریکی وزارت دفاع پینٹاگون کے مطابق، ڈونلڈ ٹرمپ نے اس ہوائی حملہ اور جنرل سلیمانی کے قتل کا حکم دیا.
قائد اسلامی انقلاب نے جمعہ کے روز اپنے ایک بیان میں جنرل سلیمانی کی مظلومانہ شہادت پر ایران میں تین روزہ سوگ کا اعلان کیا.
ایرانی وزارت خارجہ نے اپنے ایک بیان میں امریکہ کے دہشتگردی اقدام کی مذمت کرتے ہوئے ایک ہنگامی نشست کا انعقاد کیا.
اسلامی جمہوریہ ایران نے تہران میں تعینات سوئٹزرلینڈ کے سفیر جن کا ملک امریکی مفادات کا نگہبان ہے، کو محکمہ خارجہ میں طلب کیا ہے.
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
1 + 3 =