کابل کے رہنماؤں نے اپنے تیسرے سفارتی دورے کیلئے تہران کو کیوں چن لیا؟

تہران، ارنا- ایران اور افغاستان بطور دو دوست اور پڑوسی ممالک کے جغرافیائی قربت کے علاوہ، شناخت اور ثقافتی مشترکات بھی رکھتے ہیں؛ اس کے ساتھ ساتھ طالبان کے دور حکومت میں امریکہ کیجانب سے دونوں ممالک کے اثاثوں کو منجمد کرنے اور ان کیخلاف پابندیوں عائد کرنے کی مشترکہ دکھ نے تہران- کابل کے درمیان مزید تعاون کا باعث بنی ہوئی ہے۔

حالیہ دونوں میں افغان محکمہ خارجہ کے قائم مقام مولوی "امیر خان متقی" نے ایک 26 رکنی سیاسی اور اقتصادی وفد کی قیادت میں تہران کا دورہ کیا ہے؛ یہ سفر ہفتہ کے روز  (مطابق 8 جنوری) کو شروع ہوا، جس کے دوران، ایک آڈیو فائل میں متقی کے مطابق، ایرانی حکام کیساتھ تجارت، معیشت، سیکورٹی اور ٹرانزٹ کے شعبوں میں بات چیت "مثبت" رہی۔

تاہم، اس سفر کے موقع پر، بعض ذرائع ابلاغ، تہران میں افغان سفارت خانے کو طالبان کے حوالے کرنے کے امکان پر قیاس آرائیاں کرنے لیگں جو ایرانی محکمہ خارجہ کے ترجمان "سعید خطیب زادہ" نے اس حوالے سے کہا کہ تہران میں افغان سفارت خانے کی سفارتی سرگرمیاں، تمام غیر ملکی سفارت خانوں کی طرح، 1961ء کے ویانا کنونشن برائے سفارتی تعلقات کے ذریعے بیان کردہ اصولوں اور ضوابط کے دائرے میں ہیں، اور اس سے باہر کوئی تبدیلی ممکن نہیں ہے۔

کابل کے رہنماؤں نے اپنے تیسرے سفارتی دورے کیلئے تہران کو کیوں چن لیا؟

اس بات کے قطع نظر کہ اس سفر کے دوران کون سے معاہدے طے پائے ہوئے ہیں، یہ سوال اٹھایا جاتا ہے کہ کونسے عوامل اور وجوہات کی بنا پر طالبان نے پاکستان اور قطر کے بعد اپنے تیسرے سفارتی دورے کیلئے تہران کا انتخاب کیوں کیا؟

*** ایران سخت دنوں میں افغان عوام کیساتھ کھڑا رہا

دو دہائیاں قبل جب امریکہ نے 2001ء میں انسداد دہشتگردی کے بہانے سے افغانستان کیخلاف حملہ کیا تھا، تب سے ایران افغان عوام کیساتھ کھڑا رہا ہے، جس کی وجہ سے افغان تارکین وطن کو قبول کرنے میں ہمارے ملک کا نمایاں حصہ رہا ہے، اور آج تک 30 لاکھ سے زیادہ جنگ کا شکار ملک کے عوام، ایران میں داخل ہو چکے ہیں۔

حالیہ دونوں میں اور جب بائیڈن کی حکومت نے اپنے خود ساختہ دلدل سے چھٹکارا پانے کیلئے جنگ کا شکار ملک کے عوام پر ناقابل تلافی اخراجات جیسے دہشت گرد گروہوں کی مضبوطی اورمعاشی تباہی عائد کردئے ہیں، یہ پڑوسی ہونے کی اچھائی کا سلسلہ جاری ہونے سمیت اور ایران کو دوست اور پڑوسی ملک کے ناطے افغانستان کی ابتر صورتحال کے مستقبل سے متعلق بہت سے خدشات کا شکار ہے۔

ایران نے اقتصادی مسائل اور مغربی پابندیوں کے باوجود افغان عوام کی ابتر صورتحال کو نظر انداز نہیں کیا ہے اور جنرل قاسم سلیمانی کی شہادت کی دوسری برسی کے موقع پر افغان عوام کیلئے اپنی انسانی امداد کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے غریبوں کیلئے اشیائے خورد و نوش کی ایک کھیپ بھیجی گئی؛ جس کی مالیت کی شرح 50 ہزار ڈالر سے زیادہ ہے۔

اس کے علاوہ اس عرصے میں ایران نے سفارت کاری کے ذریعے افغانستان کو بحران سے نکالنے کی کوشش کی اور اس سلسلے میں سربراہی اجلاس کے انعقاد میں تہران کا فعال کردار کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔

ایران نے افغانستان پر طالبان کے کنٹرول کرنے کے بعد اور 2021ء کے اوسط میں اس دوست اور پڑوسی ملک میں امن و استحکام کے قیام میں فعال کردار ادا کیا ہے۔ مثال کے طور پر افغانستان میں تبدیلیوں کا جائزہ لینے کیلئے ماسکو کے سہ فریقی اجلاس کے بعد، افغانستان کے ہمسایہ ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوسرا اجلاس 5 نومبر کو تہران کی میزبانی منعقد ہوا جس میں ایران، ازبکستان، ترکمانستان، تاجکستان اور پاکستان کے وزرائے خارجہ نے شرکت کی؛ اس اجلاس میں چین اور روس کے وزرائے خارجہ کے علاوہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل ا"نتونیو گوٹرس" نے بھی ورچوئل حصہ لیا۔

 مذکورہ اجلاس کے دوران، افغانستان کے ہمسایہ ممالک کے وزرائے خارجہ نے بین الاقوامی برادری کیجانب سے افغان عوام کی آواز اور مطالبات سننے کی اہمیت پر زور دیا اور افغان کے حکمران گروپ پر زور دیا کہ وہ عالمی برادری کے مطالبات اور توقعات سے متعلق اپنے کیے گئے وعدوں پر پورا اترے۔

حتی کہ پڑوسی ملک افغانستان سے متعلق ایران کی اعلانیہ پالیسیوں اور اقدامات کا سرسری جائزہ لینے سے ان پالیسیوں میں افغان عوام کی اہمیت اور نمایاں ہوجاتی ہے؛ ایرانی حکومت نے افغان عوام کے اپنے مستقبل کا خود ہی فیصلہ کرنے کی سیاسی خواہش کو بھی مد نظر رکھا ہے۔

جیسا کہ ایرانی محکمہ خارجہ کے ترجمان سعید خطیب زادہ نے 3 جنوری کو اپنی ہفتہ وار پریس کانفرنس میں اس بات پر زور دیا کہ "ایران اور پڑوسی ممالک میں جس بات پر سب سے زیادہ زور دیا جاتا ہے وہ افغانستان میں ایک جامع حکومت کی تشکیل ہے جو افغانستان کے نسلی اور آبادیاتی تنوع کی عکاسی کرے"۔

*** افغانستان میں موجودہ بحران کی جڑ مغرب کے 20 سالہ تسلط میں ہے

افغانستان سے متعلق ایران کے تعمیری نقطہ نظر کے علاوہ، جسے اچھی ہمسائیگی کے اصول کے حوالے سے سمجھا جاتا ہے، افغانستان پر دو دہائیوں پر محیط، امریکی قبضہ اور جنگ کا شکار ملک کے پسماندہ علاقے کے اثاثوں کو منجمد کرنا، ایک اور اہم وجہ ہے جس نے طالبان کو ہمسایہ اور غیر مغربی ممالک کی طرف دھکیل دیا ہے۔

بائیڈن کے دور حکومت میں افغانستان سے امریکی انخلاء اور اس کے اثاثوں کو منجمد کرنے کے بعد، افغانستان کے لوگوں کو بنیادی طور پر معاشی مسائل کا سامنا کرنا پڑا جو بینکوں کی حالت پر نظر ڈالنے سے سنگین معاشی حالات کا پتہ چل سکتا ہے۔

اقوام متحدہ نے حال ہی میں افغان بینکوں کی مدد کے لیے فوری کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ آنے والے مہینوں میں ملک کا لیکویڈیٹی بحران بینکاری نظام میں بڑے خاتمے کا باعث بن سکتا ہے۔ رائٹرز کی افغانستان کے بینکاری اور مالیاتی نظام سے متعلق تین صفحات پر مشتمل رپورٹ میں، اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی) نے زور دیا کہ بینکاری نظام کو تباہ کرنے کی اقتصادی قیمت اور اس کے منفی سماجی اثرات دور رس ہوں گے۔

اقوام متحدہ کے ماہرین کے مطابق 2020 کے اختتام کے مقابلے میں اب افغان بینکوں کے بیلنس میں تقریباً 40 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ میں قرضوں کے نادہندگان میں اضافے کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔ اس طرح غیر فعال قرضوں کی رقم 2020 کے آخر میں 30 فیصد سے بڑھ کر اس سال ستمبر میں 57 فیصد ہوگئی ہے۔

اس ہنگامہ خیز صورتحال میں، جہاں بینک بیلنس ڈوب گیا ہے اور افغان معیشت کی دیوار گرنے کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں، کابل نے امریکہ کو اس حوالے سے قصور وار ٹھہرایا ہے کیونکہ واشنگٹن نے افغانستان کے مرکزی بینک کے تقریباً 9.5 بلین ڈالر کے اثاثوں کو ضبط کرنے سمیت رقوم بھیجنے کو روک دیا ہے۔

مڈل ایسٹ مانیٹر نے حال ہی میں "مغرب افغانستان میں خواتین کی موجودگی کی وجہ سے نوآبادیاتی بھوک کو انجینئر کر رہا ہے" کے عنوان سے ایک رپورٹ شائع کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ "مغرب اور اس کے زیر اثر بین الاقوامی برادری، اثاثوں اور سرمائے کو آزاد کرنے سے انکار کرکے افغانستان کو یرغمال بنا کر اس کی نئی حکومت کو بلیک میل کر رہے ہیں"۔

اس تجزیاتی نیوز ویب سائٹ کے مطابق، اگر افغانستان کا بجٹ روکا جاتا رہا تو اندازہ لگایا گیا ہے کہ قحط اور موسم سرما سے مرنے والوں کی تعداد دو دہائیوں سے جاری جنگ کے دوران ہلاک ہونے والے لوگوں کی تعداد سے زیادہ ہوگی۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو، مغرب اور بین الاقوامی برادری نوآبادیاتی ماضی کی یاد دلانے والے ایک نئے قحط کو انجینئرنگ اور منظم کر رہے ہیں۔

مبصرین کی نظر میں، ایک ایسے ماحول میں جہاں پابندیوں، غربت، دہشتگردی کے سائے نے امریکہ کی منحوس میراث کے طور پر افغانستان کے لوگوں پر چھایا ہوا ہے، ان میں سے بہت سے لوگوں کے لیے امیگریشن ہی واحد آپشن ہے؛ جیسا کہ اقوام متحدہ نے اس سے قبل (جمعہ، 26 ستمبر) افغان نقل مکانی کی لہر پر نوٹ کیا تھا اور 2021 کے آخر تک افغانستان سے مزید نصف ملین پناہ گزینوں کو خبردار کیا تھا۔

رپورٹ کے مطابق ایرانی محکمہ خارجہ کے ترجمان کیجانب سے حالیہ پریس کانفرنس کے دوران، طالبان وفد کے دورہ تہران کا معاملہ بھی اٹھایا گیا اور ترجمان سعید خطیب زادہ نے ایرانی حکام اور طالبان کے وفد کیساتھ  ملاقات سے متعلق کہا کہ ایران کی ساری فکر یہ رہی ہے کہ افغان عوام کے حالات کو کیسے بہتر کیا جائے اور اس صورتحال سے کیسے نکلا جائے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس سفر کے دوران بہت اچھی بات چیت ہوئی اور عوام پر مرکوز معیشت پر توجہ دے کر معاہدوں کو عملی جامہ پہنانے کے قریب لانے کی کوشش کی گئی۔ اس سفر میں تین مختلف ورکنگ گروپس میں تمام مسائل کا جائزہ کیا گیا اور یہ ایک کامیاب سفر تھا۔

اس کے ساتھ ساتھ اسلامی جمہوریہ ایران نے بارہا اس بات پر زور دیا ہے کہ وہ افغانستان کے عوام کے ساتھ اچھی ہمسائیگی کی پالیسی اور گہرے قریبی تعلقات کے دائرے کار میں ان کی صورتحال میں بہتری آنے کیلئے اپنے تمام وسائل بروئے کار لائے گا۔

**9467
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha