ایرانی ریڈ کریسنٹ کمیٹی کا ریڈ کراس فیڈریشن سے تعاون بڑھانے پر تیاری کا اظہار

تہران، ارنا- ایرانی ریڈ کریسنٹ کمیٹی کے نائب سربراہ برائے تعلیم اور تریبت کے امور اور ایران میں تعینات ریڈ کراس کی بین الاقوامی کمیٹی کے آپریشنز کے ڈائریکٹر نے ایک ملاقات میں حادثات اور قدرتی آفات میں لوگوں کی برداشت میں اضافہ کرنے کیلئے معاشروں کی بیداری کی سطح کو بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔

رپورٹ کے مطابق، ایران میں تعینات ریڈ کراس کی بین الاقوامی کمیٹی کے آپریشنز کے ڈائریکٹر "مارتین فیشر" نے آج بروز منگل کو ایرانی ریڈ کریسنٹ کمیٹی کے نائب سربراہ برائے تعلیم، تحقیق اور ٹیکنالوجی کے امور "مہراب شریفی سدہ" سے ایک ملاقات میں عوامی تعلیم، ایرانی ہلال احمر کا روڈ میپ اور اس کے مختلف خطرات سے متعلق آگاہی حاصل کی۔

اس موقع پر شریفی سدہ نے ایران میں خشک سالی اور پانی کی کمی کے مسائل کا ذکر کرتے ہوئے معاشرے کی برداشت کی سطح کو بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ موسمیاتی تبدیلی اور خاص طور پر خشک سالی کا مسئلہ قومی آبادیوں کے لیے سنگین مسائل کا باعث بن سکتا ہے اور سب سے اچھی بات یہ ہے کہ معاشروں کی بیداری کی سطح کو بڑھایا جائے تاکہ ان کی برداشت کو بڑھایا جا سکے کیونکہ صرف لچکدار معاشرے ان مسائل کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ریڈ کریسنٹ سوسائٹی نے اپنے مشن اور ملک میں پانی کی قلت سے پیدا ہونے والے مسائل کی بنیاد پر عوامی تعلیم اور تحقیق کے میدان میں اقدامات شروع کیے ہیں جن میں ملٹی میڈیا اور متعدد مواد، بروشرز اور کورسز کی تیاری شامل ہے۔

شریفی سدہ نے 6,000 سے زیادہ کریسنٹ ہاؤسز کی گنجائش کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہلال احمر سوسائٹی نے کمیونٹیز کی برداشت کو بڑھانے کے لیے ایک بہت اچھا پلیٹ فارم بنایا ہے اور  وہ کریسنٹ ہاؤسز ہیں، جن کا سب سے اہم کردار سماجی لچک کو بڑھانا ہے۔

دراین اثنا کے ریڈ کراس کی بین الاقوامی کمیٹی کے آپریشنز کے ڈائریکٹر نے بھی مختلف قسم کے خطرات کے بارے میں ہلال احمر کی مختلف تربیتی سرگرمیوں کی تعریف کی اور خشک سالی اور اس کے نتائج پر تحقیقی منصوبوں میں مزید تعاون پر زور دیا۔

نیز اس ملاقات کے دوران، یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ مختلف شعبوں میں سرگرمیوں کے دائرہ کار کے پیش نظر خطرات سے بچنے کے لیے آپریشنل پلان ترتیب دینے کے لیے مزید اجلاس منعقد کیے جائیں گے۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha