عراقی وزیر اعظم کا ایرانی زائرین کے ویزے کی منسوخی پر زور

تہران، ارنا – عراقی وزیر اعظم نے دونوں ممالک کے درمیان بہترین تعلقات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہم ایرانی زائرین کے ویزے کی منسوخی کی بھرپور کوشش کریں گے۔

یہ بات مصطفی الکاظمی نے ارنا کے نمائندے کے ساتھ خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے کہی۔

انہوں نے اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ اپنے ملک کے تزویراتی اور اچھے تعلقات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایرانی زائرین کیلیے عراق کے کے ویزوں کے خاتمے پر یقین کرتا ہوں اور اس سلسلے میں سنجیدہ کوششیں کروں گا ، ہم مستقبل قریب میں اسلامی جمہوریہ ایران اور عراق کے مابین ویزا کے منسوخی کو آسان بنانے کی کوشش کر رہے ہیں

الکاظمی نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے داعش کے خلاف جنگ میں عراق کی مدد کرنے میں ایک اہم کردار ادا کیا اور مجھے فخر ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ عراق کے تعلقات اب اپنی بہترین سطح پر ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ مجھے فخر ہے کہ میں نے دونوں ممالک کے مفادات کے دائرہ کار میں ان تعمیری تعلقات کے بنانے میں صریح اور واضح طور پر کام کیا ہے۔

عراقی وزیر اعظم نے بتایا کہ دونوں ممالک کے درمیان تزویراتی اور تاریخی تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ ہم نے ایران کے ساتھ بڑا سلامتی تعاون کیا ہے جس تعاون اور ہم آہنگی کے ذریعے ایران کی اندرونی سلامتی کو تباہ کرنے کے لیے ایران کے دشمن اور داعش کی  کچھ سازشیں ناکام ہو گئیں۔

الکاظمی نے بتایا کہ جنگ میں ایران ، عراق ، روس اور شام کے مابین چارفریقی سیکیورٹی کمیٹی کی حمایت، داعش کے خلاف جنگ میں معلومات اور انٹلیجنس کے تبادلے کا کام بدستور جاری ہے اور اس سلسلے میں بہت اچھا تال میل ہے ، جس پر ہمیں فخر ہے اور اس کی حمایت کے لئے کام کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ پچھلے ایک سال کے دوران ہم نے امریکہ کے ساتھ اسٹریٹجک مذاکرات کے تین دور کیے ہیں اور دوسرے مرحلے میں سابق امریکی صدر ٹرمپ نے وعدہ کیا تھا کہ امریکی فوج عراق سے چلے جائیں ۔ مذاکرات کے تیسرے دور سے پہلے ہم عراق میں امریکی فوجیوں کی تعداد کو 60 فیصد سے کم کرنے میں کامیاب ہوگئے اور مذاکرات کے تیسرے دور میں تکنیکی کمیٹی جلد ہی عراق سے باقی امریکی فوجیوں کے انخلا کے لئے ٹائم ٹیبل طے کرنے کے لئے اپنا کام شروع کردے گی۔   

  

انہوں نے کہا کہ ہم یقینی طور پر مقدس مقامات کی زیارت دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کریں گے۔ یہ زیارت نہ صرف ایک مذہبی اقدام ہے ، بلکہ ایک ثقافتی ، نظریاتی اور تاریخی واقعہ بھی ہے اور ہمیں اس طرح کے واقعات کے ذریعے تعلقات کو گہرے بنانا ہوگا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ عراق کی ہیلتھ کمیٹی کا اجلاس جلد منعقد ہوگا اور اس اجلاس میں اٹھائے جانے والے مسائل میں سے ایک اربعین حسینی (ع) کی زیارت کی شرائط ہیں۔

انہوں نے کہا کہا ہمیں یقین ہے کہ عراق کے ہمسایہ ممالک اور خطے کے ممالک کو نہ صرف اختلافات کو تلاش کرنا چاہئے ، بلکہ مشترکات کو بھی تلاش کرنا چاہئے۔

انہوں نے تاریخی، مذہبی، ثقافتی مشترکات کا حوالہ دیتے ہوئے عراق خطے میں ممالک کےدرمیان تمام تنازعات کو حل کرنا چاہتا ہے اور  اپنے ملک کو خطے میں استحکام پیدا کرنے کے مواقع کے لئے ایک میٹنگ کی جگہ بننا چاہتا ہے۔

اسلامی جمہوریہ ایران اور عراق کے مابین تجارت بہت بڑی ہے اور ہم توقع کرتے ہیں کہ یہ سالانہ 21 ارب سے زیادہ تک پہنچ جائے گی۔

مستقبل میں بجلی ، توانائی اور معاشی روابط کو فروغ دینے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بصرہ - شلمچہ ریلوے منصوبہ ایک اسٹریٹجک منصوبہ ہے اور یہ تاریخی شاہراہ ریشم کی توسیع کا تسلسل ہوگا  جو چین سے اسلامی جمہوریہ ایران اور وہاں سے عراق اور بحیرہ روم تک اور وہاں سے دنیا کے تمام علاقوں تک چلے جائے گا۔

مجھے امید ہے کہ ہم ویانا معاہدے میں خطے اور دنیا کی اقوام کے مفادات کے شعبے میں ایک اچھے نتائج دیکھیں گے۔

انہوں نے ایرانی انتخابات کے بارے میں کہا کہ اس ملک کا نظام صدارتی ہے۔ جو بھی صدر اقتدار میں آتا ہے ، اس کے ساتھ ہماری بات چیت نیک نیتی پر مبنی ہوگی۔ صدر کے بدلنے سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات متاثر نہیں ہوتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ عراق پوری دنیا میں مسلم اور انسان دوستانہ مسائل کی حمایت کرنے میں ہمیشہ پیش پیش رہا ہے۔

عراقی وزیر اعظم نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ مزاحمت کا اصل اور انصاف کے حقوق کا مطالبہ ایک انسانی مسئلہ ہے اور دنیا کی اقوام اور حکومتوں کو ان منصفانہ امور کی حمایت کرنی ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ بلاشبہ الحشد الشعبی عراق کی ایک قانونی تنظیم ہے اور عراقی سیکیورٹی سسٹم کے ساتھ ساتھ عراقی قومی سلامتی کے نظام کاایک حصہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم کسی بھی حفاظتی اداروں، چاہے وہ الحدد الشعبی ہو یا کوئی اور ادارہ کو نشانہ بنانے  کے لیے دوسرے ممالک  کی کسی بھی حکمت عملی کو قبول نہیں کریں گے۔

الکاظمی نے کہا کہ عراق چین کے درمیان معاہدہ عراق کے لئے اہم اور اسٹریٹجک ہے اور ہم اس پر عمل درآمد اور حمایت کے لئے کوشاں ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ میں عراق کے تمام سیاسی دھاروں سے اپنا فاصلہ برقرار رکھنے کی کوشش کروں گا اور ہم آئندہ عراقی پارلیمانی انتخابات میں حصہ لینے والی  تمام سیاسی جماعتوں کی یکساں طور پر حمایت کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ میں ذاتی طور پر انتخابات میں حصہ نہیں لیتا ہوں اور کسی خاص پارٹی کا حامی نہیں ہوں اور انتخاب کا امیدوار نہیں بن جائے گا۔

الکاظمی نے کہا کہ الیکشن کی حمایت کرنا اور اس کی کامیابی کے لئے مواقع فراہم کرنا میری ذمہ داری ہے۔ میں انتخابات میں حصہ نہیں لوں گا اور کسی دوسرے اتحاد کو نظرانداز کرنے کی قیمت پر میں کسی بھی اتحاد کی حمایت نہیں کروں گا۔

 جاری ہے۔ ۔ ۔

  

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha