علاقے پر ایران اور سعودی عرب کے تعلقات میں بہتری آنے کے اثرات

تہران، ارنا- ایران نے سعودی ولی عہد کے مفاہمت آمیز لہجے پر مثبت رد عمل کا اظہار کیا ہے لہذا اگر عمل کے میدان میں اس مفاہمت مند لہجے کو بھانپ لیا گیا تو، خطے میں بہت ساری پریشانیوں کا خاتمہ ہوگا اور اب تک جو اخراجات مقابلے اور کشیدگی میں خرچ ہوئے ہیں وہ خطے کے عوام کی سلامت، استحکام اور فلاح و بہبود پر خرچ ہوں گے۔

عراق میں ایران اور سعودی عرب کے عہدیداروں کے درمیان غیر مصدقہ خبر کی اشاعت کے بعد اور اس خبر کی تصدیق اور تردید سے قطع نظر سے، سعودی ولی عہد نے ایران سے متعلق نیا موقف اپنایا۔

انہوں نے ایک انٹرویو میں ایران اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات میں بہتری آنے پر امید کا اظہار کرلیا؛ لہذا ایسا لگتا ہے کہ سعودی عرب، علاقائی تعلقات اور ایران سے تعاون پر نئے رویے کا اختیار کیا ہے جس کا ایران نے بھی خیرمقدم کیا ہے۔

سعودی عرب کی خارجہ پالیسی، خاص طور پر حالیہ برسوں میں زیادہ تر امریکہ کیساتھ سعودی تعلقات سے منسک ہے؛ امریکہ میں ڈونلڈ ٹرمپ کے بر سر اقتدار انے اور ایران کیخلاف پابندیوں کے آغاز کے ساتھ ہی سعودی عرب اپنی قدامت پسندانہ روش سے دور ہوکر ٹرمپ انتظامیہ کیساتھ ایران کیخلاف جارحانہ پالیسی اپنائی۔

اب امریکہ میں جوبائیڈن کے بر سرکار آنے اور ان کے ایران جوہری معاہدے میں واپسی کے فیصلے سے سعودی عرب بھی اپنی پالیسیوں میں تبدیلی لانے کا فیصلہ کیا ہے۔

سعودی عرب کے ولی عہد نے حالیہ دنوں میں ایک انٹرویو کے دوران ایران سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہا کہ وہ ایران کی ترقی اور کامیابی کے خواہاں ہیں؛ ایران ہمارا ہمسایہ ملک ہے جس کے ساتھ اچھے تعلقات کے خواہاں ہیں۔

انہوں نے تہران اور ریاض کے درمیان تعلقات برقرار رکھنے سے متعلق کہا کہ ایران ہمارا ہمسایہ ملک ہے اور ہمیں امید ہے کہ ایران سے اچھے تعلقات قائم کرسکیں گے؛ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ علاقے اور دنیا کی ترقی کیلئے دونوں ممالک کے درمیان مشترکہ مفادات ہیں۔

البتہ سعودی ولی عہد نے اپنے گزشتہ کے دعووں کو دہراتے ہوئے کہا کہ ہمارا مسئلہ ایران کا منفی رویہ ہے؛ اب وہ ایٹمی پروگرام، یا خطے کے کچھ ممالک میں غیر قانونی ملیشیاؤں یا اس کے بیلسٹک میزائل پروگرام کی حمایت کرنا چاہتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر ایران خطے میں عسکریت پسندوں کی مدد کرنا چھوڑ دے تو وہ ایران کیساتھ تعلقات کی بحالی کی مخالفت نہیں کریں گے؛ سعودی عرب ایران سے پائیدار دشمنی کا خواہاں نہیں ہے لیکن دونوں ممالک کے مابین تعلقات میں کسی ہر کسی قسم کی بہتری مشروط ہوگی۔

حالانکہ ایران نے حالیہ برسوں میں پڑوسی ممالک سے دوستی کا ہاتھ بڑھایا ہے اور خطے میں وسیع تر سلامتی کے حصول کیلئے مختلف میکنزم اور تجاویز کو پیش کیا ہے۔

برٹش فنانشل ٹائمز نے حال ہی میں کہا ہے ہے کہ سینئر ایرانی اور سعودی حکام دونوں ممالک کے مابین تعلقات میں بہتری لانے کے لئے بات چیت کر رہے ہیں؛ رپورٹ کے مطابق، یہ بات چیت دونوں ممالک کے مابین سفارتی تعلقات منقطع ہونے کے پانچ سال بعد ہوئی ہے اور یہ مذاکرات رواں ماہ بغداد میں ہوئے تھے؛ ان ملاقاتوں اور مذاکرات کی تردید یا تصدیق سے قطع نظر ایران نے ہمیشہ ہمسابہ ملکوں سے اچھے تعلقات برقرا رکھنے کا خیر مقدم کیا ہے۔

ایرانی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے 19 اپریل کو شائع کی گئی خبروں اور ایران اور سعودی عرب کے عہدیداروں کے درمیان سوال کے جواب میں کہا کہ اس حوالے سے متضاد خبریں شائع کی گئی ہیں تا ہم اسلامی جمہوریہ ایران، سعودی عرب سے مذاکرات کا خیرمقدم کرتا ہے اور ان کو دونوں ممالک کے عوام اور خطے کے مفاد میں سمجھتا ہے۔

انہوں نے کلاب ہاؤس میں غیر ملکی صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم مجموعی طور پر خطی کشیدگی کو کم کرنے اور تعاون بڑھانے کی ہر کسی تجویز اور حکمت عملی کا خیر مقدم کرتے ہیں اور بلاشبہ ہمسایہ ملکوں سے تعلقات اور مذاکرات کے خواہاں ہیں۔

خطیب زادہ نے ایران - سعودی عرب تعلقات کی حالیہ تاریخ کا جائزہ لیتے ہوئے تہران اور ریاض کے مابین مکالمہ کے قیام کے لئے عراق، کویت، پاکستان، چین اور جرمنی سمیت کچھ علاقائی اور بین الاقوامی علاقائی ممالک کی کوششوں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ برسوں میں دونوں ممالک، بالواسطہ اور بلاواسطہ رابطے میں تھے۔

حقیقت یہ ہے کہ جب تک سعودی عرب اور ایران کے مابین کشیدگی کو ختم نہیں کیا جائے اس خطے میں بہت سارے مسائل حل نہیں ہوں گے اور کشیدگی کے تسلسل سے دراصل اس خطے کے مسلم ممالک اور اقوام پر بھاری اخراجات عائد ہوں گے۔

یہ بات اہم ہے کہ دو بڑی علاقائی طاقتوں کے مابین تعلقات جن کی نوعیت کا تعلق دراصل خطے کی قوموں کے امور پر اثر انداز ہوتا ہے وہ سپرا علاقائی طاقتوں کے ساتھ تعلقات سے متاثر نہیں ہونا چاہئے۔

لہذا توقع کی جاتی ہے کہ خطے میں بڑی طاقتوں کو اپنی وسائل اور صلاحیتوں کے پیش نظر، بیرونی طاقتوں کے زیر اثر میں نہ رہیں؛ ایسا نقطہ نظر، اگر  حالیہ برسوں میں خطے کے تعلقات میں غالب ہوتا تو آج بہت سارے انسانی اور مالی نقصانات کو روک سکتا تھا۔

بہرحال ، تہران اور ریاض کے مابین تعلقات میں بہتری دونوں اہم ممالک کے لوگوں، یہاں تک کہ یمن، لبنان، عراق، شام اور شاید دوسرے خطوں کیلئے مثبت اثرات کا حامل ہے؛ اس ضمن میں توانائی کے میدان میں دونوں ممالک کے مابین مسابقت اور باہمی روابط کا تجربہ بھی قابل ذکر ہے؛ توانائی کی دو اہم طاقتوں کا تعاون تیل کی قیمتوں پر قابو پانے میں خطے کے ممالک اور اقوام کے مفاد میں ہوسکتا ہے۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
1 + 2 =