ایران میں الہامی ادیان کے پیروکاروں کے حقوق کی فراہمی؛ اسلامی انقلاب کے ثمرات

ارومیہ، ارنا- اسلامی انقلاب نے ایران میں الہامی ادیان اور مذہبی اقلیتوں میں نئی روح پھونک دی اور ان کے پیروکاروں کے حقوق کے حصول کیلئے مناسب فضا کی فراہمی کی جو ملک خصوصا صوبے مغربی آذربائیجان میں مذہبی اقلیتوں کے بڑھتے ہوئے اطمینان کا سبب بنی۔

رپورٹ کے مطابق ایران میں گزشتہ 42 برسوں کے دوران، نہ صرف الہامی ادیان کے ماننے والوں کو اپنی مذہبی رسومات کے انعقاد سے منع نہیں کیا گیا ہے بلکہ ان کے بہتر انعقاد کے لئے مناسب فضا کی فراہمی کی گئی ہے۔

اس کے علاوہ، مذہبی اقلیتوں اور الہی مذاہب کے پیروکاروں کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ ایرانی پارلیمنٹ میں اپنے نمائندے کو اپنے ووٹ کے ذریعے منتخب کریں تا کہ وہ ان کی آواز بن کر ان کے حقوق کی محافظت کریں۔

 نیز نجی اسکولوں کا استعمال اور مقامی زبان سیکھنے کا امکان بھی اسلامی انقلاب کے بعد مذہبی اقلیتوں کیلئے فراہم کیا گیا تھا۔

*** ایران، الہامی ادیان کے پیروکاروں کے درمیان یکجہتی کی واضح مثال

شرق آشور چرچ کے آرچ بشپ "مارنرسای بنیامین" نے اس حوالے سے ارنا نمائندے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسلامی جمہوریہ میں مذہبی رسومات کا انعقاد، مندروں اور مقدس مقامات کی حفاظت، مذہبی شخصیات کے تقدس اور شہریوں بشمول مذہبی اقلیتوں کی معاشی سرگرمیوں کی ضمانت دی گئی ہے۔

انہوں نے اسلامی انقلاب کے بعد مذہبی اقلیتوں کی صورتحال میں بہتری آنے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ مذہبی اقلیتوں کے ایرانی پارلیمنٹ میں پانچ نمائندے ہیں اور وہ پارلیمنٹ کے دوسرے ممبروں کی طرح، ملک چلانے، حکومت کی منظوری اور وزراء کے مواخذے میں اپنا کردار ادا کرسکتے ہیں۔

*** ایران، الہامی ادیان کے پیروکاروں کیلئے ایک پُرامن گھر ہے

کینیڈا میں مقیم ایرانی عیسائی جو طبیعات کے پروفیسر ہیں نے کہا ہے کہ ایران، تمام الہی مذاہب کے پیروکاروں کے لئے ایک محفوظ گھر ہے؛ ایران میں الہامی پیروکاروں کو جو آزادی دی گئی ہے اسے یورپ میں نظر نہیں آئی۔

"ادوارد داوودی" نے کہا کہ ایران میں االہی ادیان اور مذہبی اقلیتوں کے پیروکاروں کی آزادی کی ایک واضح مثال، چالدران میں واقع قرہ چرچ میں مذہبی تقاریب اور مذہبی رسومات "باداراک" کا انعقاد ہے جو ہر سال دنیا کے مختلف ممالک کے الہی ادیان کے پیروکاروں کی موجودگی کیساتھ منعقد ہوتی ہے۔

*** مذہبی اقلیتوں کی توہین کا خاتمہ، اسلامی انقلاب کا نتیجہ ہے

شہر ارومیہ میں رہنے والے ارمنی برادری کے ایک شہری "لوڈریک یوحنا" نے کہا کہ اسلامی انقلاب سے پہلے مختلف افراد حتکہ امریکی گلوکار الہامی ادیان کی توہین کرتے تھے۔

انہوں نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ، پہلی نظام حکومت ہے جس نے دوسرے مذاہب کی توہین کے خلاف ڈٹ کر مقابلہ کیا جبکہ ہمیں آج، ناجائز صہیونی ریاست میں الہامی ادیان کا مذاق اڑانے اور ان کے مقدسات کی توہین کرنے نظر آرہے ہیں۔

ایران میں الہامی ادیان اور مذہبی اقلیتوں کے پیروکاروں کی صورتحال سے متعلق میں انسانی حقوق کے دعویداروں کی جھوٹی رپورٹوں کے برعکس، وہ ایسی صورتحال میں ہیں جو ملک کے دشمنوں کے تصور اور تجزیے کے منافی ہیں؛ انہوں نے نہ صرف اپنا وطن نہیں چھوڑا بلکہ مختلف اوقات بالخصوص ملک کیخلاف مسلط کردہ آٹھ سالہ جنگ کے دوران اپنا کردار ادا کیا جن کا واضح ثبوت الہامی ادیان کے ان گنت شہدا ہیں۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha