بھارت اور روس کا ایران سے سامان کے ٹرانزٹ کی توسیع کیلئے پُرعزم

تہران، ارنا- ایران کیساتھ تجارت کا سلسلہ جاری رکھنے والے ممالک پر نئی پابندیاں عائد کرنے کی امریکی دھمکیوں کے باوجود، دہلی اور ماسکو ایران سے سامان کے ٹرانزٹ سمیت دیگر شعبوں میں  تجارتی تعاون کو بڑھانے کے لئے پُرعزم ہیں۔

رپورٹ کے مطابق، روس اور بھارت کے تاجروں اور کار و باری حقلوں میں سرگرم افرا د عنقریب ایران سے تجارتی لین دین کر سکتے ہیں۔

ہندو بزنس لائن کے مطابق، بھارت کنٹینر اور روسی ریلوے (آر زیڈ ڈی) لاجسٹکس کے درمیان حال ہی میں طے پانے والے معاہدے سے ایران کے راستے دونوں ممالک کے درمیان سامان کے ٹرانزٹ میں آسانی ہوگی۔

تجزیہ کاروں کے مطابق، اس معاہدے کا سب سے اہم مقصد ایران کے ذریعے شمال-جنوب بین الاقوامی راہداری کے نفاذ کو آسان اور تیز کرنا ہے جس سے نئی دہلی اور ماسکو کی حکومتوں کے مابین تجارت میں آسانی ہوگی۔

 یہ بات قابل ذکر ہے کہ روسی ریلوے کمپنی اور بھارت کی فریٹ ریلوے کمپنی نے، بھارت کی سب سے بڑی مال بردار ٹرانسپورٹ کمپنی کی حیثیت سے اس بین الاقوامی راہداری منصوبے کو مزید مشترکہ اعانت کی خدمات فراہم کرنے کیلئے مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے جس پر عمل درآمد کئی سالوں سے تاخیر کا شکار ہے اور اس طرح بھارت یوریشیایی ممالک اور افغانستان میں معاشی تعلقات کی توسیع میں بڑا کردار ادا کر سکے۔

واضح رہے کہ ایران، روس اور بھارت نے 2000ء سے اب تک اس راہداری کو متعدد راستوں بشمول سمندری، ریلوے اور سڑکوں کے ذریعے فعال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور اس حوالے سے 7 ہزار 200 کلومیٹر پر مشتمل ایک ریلوے لائن کو بھی اس راہداری کے راستے میں قائم کر لیا ہے۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
4 + 10 =