شام سے متعلق کیمیائی ہتھیاروں کی ممانعت تنظیم کی رپورٹ یکطرفہ ہے: ایران

تہران، ارنا- ایرانی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال سے متعلق او پی سی ڈبیلو کی پہلی رپورٹ کو متعصبانہ، یکطرفہ اورکیمیائی ہتیھاروں کی ممانعت کی تنظیم کے اختیار اور اس کی صلاحیتوں سے باہر قرار دے دیا۔

ان خیالات کا اظہار "سید عباس موسوی" نے پیر کے روز ارنا نمائندے کیساتھ گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران، عصر حاضر میں کیمیائی ہتھیاروں کا سب سے بڑا شکار ہونے کی حیثیت سے، کسی بھی جگہ اور کسی بھی حالت میں کسی بھی فرد کے ذریعے کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی مذمت کرتا ہے۔

موسوی نے کہا کہ تاہم  شام سے متعلق کیمیائی ہتھیاروں کی ممانعت کی تنظیم کی رپورٹ اور اس سے حاصل ہونے والے نتیجے سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ رپورٹ بیرونی دباؤ کے تحت تیار اور مرتب کی گئی ہے اور اس رپورٹ میں استعمال ہونے والے ذرائع کچھ دہشت گرد گروہ اور نام نہاد انسان دوست تنظیمیں جن میں وائٹ ٹوپیاں بھی شامل ہیں، کے ذرائع سے اخذ کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کو تکنیکی نوعیت کی حامل ایک خصوصی تنظیم کی حیثیت سے منعقدہ کیمیکل ہتھیاروں کی ممانعت کی تنظیم کی بگڑتی ہوئی آزادی اور قانونی شخصیت پر خدشہ ہے۔

 موسوی نے کہا کہ اسی مناسبت سے اسلامی جمہوریہ ایران نے تکنیکی، قانونی اور سیاسی وجوہات پر مبنی تحقیق اور شناختی ٹیم کے تفویض اور تشکیل کے قیام کی مخالفت کی ہے اور اسے کیمیائی ہتھیاروں کے کنونشن کی دفعات سے بالاتر اور بین الاقوامی امن و سلامتی سے متعلق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے فرائض کے منافی قرار دے دیا ہے۔

انہوں نے کیمیائی ہتھیاروں کی ممانعت کی تنظیم سے شام کے تعیمری تعاون کو سراہتے ہوئے کہا کہ اب کیمیائی ہتیھیاروں کے استعمال سے متعلق شامی کیس کو سیاسی رنگ دینے بغیر، سیاسی دباؤ اور جعلی ڈھروں سے دور ہوکر انتظام کرنے کا وقت آگیا ہے۔

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha