امریکی کارروائی ریاستی دہشت گردی کی واضح مثال ہے

تہران، ارنا – ایرانی وزیر دفاع نے جنرل سلیمانی کے قتل کیلیے امریکہ کے اقدام کو ریاستی دہشت گردی کی واضح مثال قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ خطے کے تناؤ کو دور کرنا امریکہ کی غاصبانہ اور مداخلت پسند موجودگی کے خاتمے کے ساتھ ممکن ہوگا۔

ان خیالات کا اظہارات بریگیڈیئر جنرل "امیر حاتمی" نے  آج  بروز جمعہ  جاپانی  ہم منصب تانو کونو کےساتھ ایک ٹیلی فونک رابطے میں گفتگو کرتے ہوئے کہی۔
 انہوں نے کہا کہ کسی تیسرے ملک کی سرزمین پر ایک ملک کے سینئر فوجی اہلکار کو قتل کرنا ایک بڑا جرم اور جنایت ہے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد کے مطابق امریکہ کا اس اقدام ریاستی دہشتگردی کی واضح مثال ہے۔  
انہوں نے امریکی فورسز کی موجودگی کو خطے کےعدم استحکام اور بدامنی کی اصل وجہ قرار دیتےہوئے کہا کہ  ہمیں خطے کے استحکام اور سلامتی کے لئے اس علاقے سے امریکہ کی مداخلت پسند موجودگی کا جلد از جلد خاتمہ کرنا ہوگا۔
امیر حاتمی نے کہا کہ ہم  نےخلیج فارس اور  بحیرہ عمان کے سب سے بڑے ساحلی ملک کی حیثیت سے ہمیشہ علاقائی پانیوں کی سیکورٹی کے لیے اپنے کردار کا ادا کیا ہے تو خطی امن اور استحکام کے حامی ممالک کو بھی امریکیوں سے خطے چھوڑنے کا مطالبہ کرنا چاہیے۔
 اس موقع جاپانی وزیر دفاع نے کہا کہ اپنا ملک کشیدگی کو دور کرنے اور امن اور استحکام کے فروغ کے لیے اپنے کردار کرنے پر تیار ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ جاپان خطے میں امریکی زیرقیادت فوجی اتحادوں میں شرکت نہیں کرے گا۔
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
1 + 7 =