چابہار بندرگاہ، ایران کے مکران ساحل میں چھپا ہوا خزانہ

چابہار، 24 دسمبر، ارنا - ایران کی جنوبی بندرگاہ چابہار کے ترقیاتی منصبوں میں ملکی اور غیرملکی سرمایہ کاری کی شرح سال کے آخر تک تقریبا 100 ملین ڈالر تک پہنچ جائے گی جبکہ چابہار کے سہ فریقی معاہدے سے متعلق بھی ایران، بھارت اور افغانستان کے درمیان مذاکرات منعقد ہوں گے.

یہ بات پاکستانی سرحد سے ملحقہ ایرانی صوبے سیستان و بلوچستان کی پورٹس اور میری ٹائم اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل 'بہروز آقایی' نے پیر کے روز ارنا کے نمائندے کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہی.
انہوں نے مزید کہا کہ آج تینوں ملکوں کے درمیان چابہار معاہدے سے متعلق ایگزیکٹو اجلاس منعقد ہوگا.
ایرانی عہدیدار کے مطابق، دوسال پہلے ایران، بھارت اور افغانستان نے چابہار بندرگاہ کے معاہدے پر دستخط کئے تھے جس کے بعد ایرانی پارلیمنٹ کی جانب سے اس معاہدے کو منظور کیا گیا.
انہوں نے کہا کہ چابہار میں 'شہید بہشتی ' بندرگاہ کے منصوبے کی تعمیر کے لئے ایک ارب ڈالر فنڈ کی ضرورت ہے اس حوالے سے بھارت کے ساتھ 85 ملین ڈالر کا معادہ بھی طے ہوا جسے ابھی بھی مکمل نہیں کیا گیا.
انہوں نے مزید کہا کہ چابہار بندرگاہ کے ترقیاتی منصوبے 5 فیزوں پر مشتمل ہیں. 2008 میں پہلے فیز پر کام شروع ہوا اور اب تک اس کے 45 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے.
آقایی نے کہا کہ چابہار کی بہشتی بندرگاہ کی گہرائی کی وجہ سے یہاں سپر پوسٹ پینامیکس بحری جہازوں (super post panamax ships ) کے داخلے کے لئے کوئی مسئلہ نہیں ہے.
انہوں نے بتایا کہ شہید بہشتی بندرگاہ میں کسی مسئلے کے بغیر مصنوعات کی برآمدات اور درآمدات ممکن ہے جبکہ سپر پوسٹ پینامیکس جہاز آسانی سے یہاں لنگر انداز ہوسکتے ہیں.
آقایی نے کہا کہ گزشتہ دو سالوں میں مکمل ہونے والے اہم منصوبوں میں سے ایک چابہار بندرگاہ میں ساحلی کرینوں بالخصوص اسٹریٹجک سازوسامان کو ملک میں لانا تھا.
انہوں نے کہا کہ فی الحال اس بندرگاہ میں مختلف اقسام کے سامان اتارے جاتے ہیں جبکہ سامان لوڈنگ میں کوئی خاص مشکل نہیں ہے.
'بہروز آقایی' نے مزید بتایا کہ چابہار بندرگاہ، افغانستان کی برآمدات اور درآمدات کیلئے بہترین ذریعہ ہے.
انہوں نے کہا کہ چابہار کے ذریعے افغانستان کے لئے بھیجوائی گئی بھارتی گندم کی 8 کھیپوں کو افغانستان منتقل کردیا گیا ہے اور عالمی مارکیٹ میں ہماری سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ ہم نے سب سے کم لاگت اور وقت میں ان مصنوعات کو منتقل کیا اسی لیے آج افغانستان نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ وہ اپنی مصنوعات کی ٹرانزیٹ کے لئے چابہار بندرگاہ کا استعمال کرے گا.
انہوں نے مزید بتایا کہ چابہار بندرگاہ 5.5 ملیں ٹن مصنوعات کی نگہداشت کی گنجائش رکھتی ہے جبکہ اس کی صلاحیت کا مکمل طور پر استعمال کے لیے چابہار بندرگاہ کو ریلوے لائن سے منسلک کرنے کی ضرورت ہے.
ایرانی عہدیدار نے کہا کہ ریلوے لائن، نقل و حمل کا سب سے سستا ذریعہ ہے اور اس کی مدد سے چابهار بندرگاہ میں سامان کی ٹرانزٹ اور ترسیل کے اخراجات میں کمی کی جاسکتی ہے.
آقایی نے کہا کہ چابہار خطے کی بندرگاہوں کو مکمل کرتی ہے. چابہار بندرگاہ اور خطے کی دیگر بندرگاہوں خاص طور پر پاکستان کی گوادر پورٹ کے درمیان کوئی مسابقتی فضا نہیں ہے کیونکہ وہ ایک دوسرے کی لازم اور ملزوم ہیں.
انہوں نے کہا کہ گوادر اور چابہار کی بندرگاہوں کی گنجائش میں اضافے سے مصنوعات کی ٹرانزٹ کو بڑھایا جاسکتا ہے اور اس کے علاوہ ایران اور پاکستان کے درمیان شپنگ سرگرمیوں کے آغاز سے بھی دونوں ممالک کو فائدہ ملے گا.
آقایی نے مزید کہا کہ یقینا گوادر اور چابہار کو ریلوے لائن کے ذریعے ایک دوسرے منسلک ہونا چاہیے جس کی مدد سے چابہار، شہید رجائی اور گوادر بندرگاہ اپنے تعمیری کردار کو بہتر انداز میں ادا کرسکتی ہیں.
ایرانی عہدیدار نے بتایا کہ ایران اور پاکستان کے درمیان طے پانے والے معاہدوں میں سے ایک چابہار اور کراچی کے درمیان مسافروں کی نقل و حرکت کے لئے مشترکہ فیری سروس کا قائم ہے.
بہروزآقایی نے کہا کہ ایران نے چابہار میں سب سے بڑے بین الاقوامی مسافر ٹرمینل کا افتتاح کیا ہے جبکہ افغانستان، پاکستان اور عمان یہاں کی صلاحیت کا استعمال کرنا چاہتے ہیں.
انہوں نے حالیہ دنوں میں چابہار میں دہشتگردی کے واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حالیہ کاروائی دشمنوں کی ناکامی کی علامت ہے کیونکہ ایسے حملوں سے چابہار بندرگاہ کی ترقی متاثر نہیں ہوسکتی.
9410*274**
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@