ایران اور چین کے 25 سالہ تعاون منصوبے پر حملوں کے پیچھے غیر ملکی عناصر شامل ہیں: ترجمان خارجہ

تہران، ارنا – ایرانی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے دوست ممالک کے ساتھ معاہدوں پر دستخط کرنے کی تیاری پر زور دیا اور کہا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران اور چین کے درمیان 25 سالہ تعاون منصوبے پر حملوں کے پیچھے غیر ملکی عناصر شامل ہیں اور انقلاب مخالف گروہوں کے اقدامات کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔

یہ بات "سید عباس موسوی" نے پیر کے روز اپنی ہفتہ وار پریس کانفرنس کے دوران ملکی اور غیرملکی میڈیا کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہی۔

انہوں نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران اور چین کے درمیان باہمی تعاون کے معاہدے کا حتمی مسودہ تیار کیا گیا ہے اور دوسری فریق کو حتمی شکل دی جائے گی جس کی مبنی پر نئے معاہدوں پر دستخط ہوچکے ہیں اور دو طرفہ تعلقات کو نئی ریلوں کی بنیاد پر آگے بڑھنا چاہئے۔
موسوی نے کہا کہ ہم دوسرے دوست ممالک کے ساتھ بھی اسی طرح کے معاہدوں پر دستخط کرنا اور ان کے تعلقات کو وقفہ سے طویل مدتی میں تعبیر کرنا چاہتے ہیں۔

شام اور ایران کے درمیان دفاعی تعاون دہشتگرد گروہوں کی تباہی تک جاری رہے گا
انہوں نے ایرانی مسلح افواج  کے سربراہ میجر جنرل "محمد باقری" کے دورے شام میں دو طرفہ سیکوریٹی معاہدے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا  کہ ایرانی اور شامی فوجی تعاون اور تعلقات کوئی نیا موضوع نہیں ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران شامی حکومت کی درخواست پر موجود ہے اور یہ تعاون دہشت گرد گروہوں کی تباہی تک زیادہ سے زیادہ جاری ہے۔


امریکہ میں صدر کون ہے اہم نہیں ایرانی عوام کے ساتھ کس طرح سلوک کرنا اہم ہے
موسوی نے امریکی صدارتی انتخابات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اہم بات یہ نہیں ہے کہ امریکہ میں صدر کون ہے ، لیکن ایرانی عوام کے ساتھ کس طرح سلوک کرنا اہم ہے۔


جمہوریہ آذربائیجان اور آرمینیا کو مسائل کے سیاسی حل پر دعوت دیتے ہیں
ایرانی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے جمہوریہ آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان سرحدی محاذ آرائی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہم فریقین کو مسائل کے سیاسی طور پر حل کرنے کی دعوت دیتے ہیں۔


نطنز واقعے کا ایرانی جوہری پروگرام پر کوئی اثر نہیں ہے
انہوں نے اس سوال جو کیا نطنز کا واقعہ جوہری سرگرمیوں پر اثر پڑا ہے کے جواب میں کہا کہ اس واقعے کا ہماری سرگرمیوں پر زیادہ اثر نہیں ہوا اور ہم نے فورا ہی اس علاقے کی تعمیر نو شروع کردی۔


ایران اور عالمی جوہری ادارے کے درمیان باہمی تعاون اضافی پروٹوکول کے رضاکارانہ عملدرآمد کی مبنی پر جاری ہے
موسوی نے پانچ مرحلوں کے دوران جوہری وعدوں کی کمی کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے جوہری پروگرام کو فی الحال کسی بھی عملی پابندیوں کا سامنا نہیں ہے اور ایٹمی توانائی ادارے کی تکنیکی ضروریات کے تحت جاری ہے جبکہ عالمی جوہری ادارے  کے ساتھ باہمی تعاون وعدوں اور اضافی پروٹوکول کے رضاکارانہ عملدرآمد کے مطابق جاری رہے گا۔

انہوں نے کہا کہ ٹرمپ کی حکومت انتخاباتی امور کی بنیاد پر خارجہ پالیسی میں فتح اور جوہری معاہدے  کے خاتمے کی کوشش کر رہی ہے ۔
انہوں نے کہا کہ سلامتی کونسل کی قرارداد 2231 کے مطابق، اکتوبر 2020 میں ایران مخالف اسلحہ کی پابندی کو ختم ہوجائے گا اور ٹرمپ کا مقصد ان پابندیوں میں توسیع کرنا ہے۔


جنوبی کوریا کا ایران کے قرضوں کی عدم ادائیگی کا عذر ناقابل قبول ہے
موسوی نے جنوبی کوریا سے ایران کے 7 ارب ڈالر قرضوں کی ادائیگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہم واضح طور پر یہ بیان کرتے ہیں کہ ان کا عذر ناقابل قبول ہے کہ وہ ایرانی عوام کو اپنا قرض ادا نہیں کریں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہم امید کرتے ہیں کہ جنوبی کوریا اپنا قرض ادا کرے گا اور اگر دیکھیں کہ کرنے والی کوششیں  کامیاب نہیں ہوں گی تو ہم اپنے وصولی کو جمع کرنے کے لئے اقدامات کریں گے۔
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
2 + 12 =