ایرانی مندوب: خلیج فارس کے تینوں جزیرے ایران کا اٹوٹ حصہ ہیں

نیویارک - ارنا - سلامتی کونسل میں خلیج تعاون کونسل کے وزرائے خارجہ کے 163 ویں اجلاس کے بعد اقوام متحدہ میں ایران کے سفیر اور مستقل نمائندے امیر سعید ایروانی نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے صدر کو لکھے گئے ایک خط میں ایران کے تین جزیروں پر مداخلت کے دعوے کو مسترد کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ خلیج فارس میں ابو موسی، تنب بزرگ اور تنب کوچک ایران کا اٹوٹ حصہ ہیں۔ انہوں نے ایرانی خود مختاری میں مداخلت کو بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے اصولوں کی صریح خلاف ورزی قرار دیا۔

ارنا کے مطابق، اقوام متحدہ میں ایران کے سفیر اور مستقل نمائندے، امیر سعید ایروانی نے، بے بنیاد الزامات کے جواب میں، خلیج فارس کے تین جزائر پر ایران کی غیر مشروط حاکمیت پر زور دیتے ہوئے کسی بھی مخالف دعوے کو "ناقابل قبول مداخلت" قرار دیا ہے۔

خلیج فارس کے فرضی نام پر احتجاج کرتے ہوئے، ایروانی نے کہا کہ "خلیج فارس" کا عنوان اس آبنائے کا واحد تاریخی اور قانونی نام ہے جو بین الاقوامی دستاویزات اور تاریخی متن میں ایک طویل عرصے سے استعمال ہوتا آرہا ہے۔

اقوام متحدہ میں ایرانی سفیر نے اس بات پر زور دیا کہ ایران نے ہمیشہ بین الاقوامی قوانین کے اصولوں کا احترام کیا ہے جن میں ممالک کیساتھ اچھی ہمسائیگی کا اصول شامل ہے اور اس نے علاقائی امن و استحکام اور فروغ کی اپنی پالیسی کو خلیج فارس کے تمام ہمسایوں کے ساتھ باہمی احترام اور تعمیری بات چیت پر استوار رکھا ہے۔ انکا کہنا تھا کہ خلیج فارس کے تینوں جزیرے ایران کا اٹوٹ حصہ ہیں۔

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .