6 جنوری، 2024، 7:39 PM
Journalist ID: 5480
News ID: 85345867
T T
0 Persons

لیبلز

امریکہ بحیرہ احمر میں عسکریت پسندی کا ذمہ دار، یمنی پارلیمنٹ

تہران-ارنا- یمن کے اراکین پارلیمنٹ نے امریکہ کے بحری اتحاد کے حالیہ بیان پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے زور دیا ہے کہ واشنگٹن اور اس کے اتحادی، بحیرہ احمر میں عسکریت پسندی کے اصل ذمہ دار ہيں اور یمن کی فوج اس علاقے میں جہازرانی کے محفوظ ہونے پر زور دیتی ہے۔

یمنی پارلیمنٹ کے بیان میں کہا گیا ہے: ہم امریکی اتحاد کے بیان میں جھوٹے دعوؤں اور غلط باتوں کو کہ جو حقیقت سے کو‎سوں دور ہے ، سختی کے ساتھ مسترد کرتے ہيں۔

بیان میں کہا گیا ہے: ہم صیہونی حکومت کو فائدہ پہنچانے کے لئے بین الاقوامی قوانین کے سلسلے ميں دوہرے رویہ کی مذمت کرتے ہيں۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے: ہم اس علاقے میں محفوظ جہازرانی پر زور دیتے ہیں سوائے ان بحری جہازوں کے لئے جو غزہ پر جارحیت کے خاتمے سے پہلے مقبوضہ فلسطین جا رہے ہوں گے اور ہم ایک پھر یمن کی ارضی سالمیت کے تحفظ اور فلسطینی عوام کی حمایت کی اپنی ذمہ داری پر زور دیتے ہيں۔

بیان میں کہا گيا ہے کہ ہم امریکی بحری اتحاد میں شامل ملکوں کو فلسطینیوں کے قومی تصفیہ اور بحیرہ احمر میں فوجی مہم جوئي کا ذمہ دار سمجھتے ہیں۔

امریکہ کے اس بحری اتحاد میں بحرین، بلژیئم، کینیڈا، ڈنمارک، جرمنی، اٹلی، جاپان، ہالینڈ، نیوزی لینڈ اور برطانیہ شامل ہیں۔ ان ملکوں نے ایک بیان جاری کرکے یمنی فوج کو دھمکی بھی دی ہے۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ بحرین واحد عرب ملک ہے جو بحیرہ احمر میں صیہونی حکومت کے بحری جہازوں کے خلاف یمنی فوج کی کارروائیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے امریکی اتحاد میں شریک ہے۔

ارنا کے مطابق یمنی فوج نے گذشتہ ہفتوں میں غزہ کی پٹی میں فلسطینی قوم کی مزاحمت کی حمایت میں بحیرہ احمر اور آبنائے باب المندب میں مقبوضہ علاقوں کی طرف جانے والے متعدد صہیونی بحری جہازوں کو نشانہ بنایا ہے۔

یمنی فوج کے دستوں نے عہد کیا ہے کہ جب تک صیہونی حکومت غزہ پر اپنے حملے بند نہیں کرتی اس وقت تک اس حکومت کے جہازوں یا بحیرہ احمر میں مقبوضہ علاقوں کے لیے جانے والے بحری جہازوں پر حملے جاری رکھیں گے۔

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .